Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 96 of 115

قائدِ تحریک کے صاحبزادے مولانا سید خلیل احمد قادری علیہ الرحمہ جو جامع مسجد وزیر خان لاہور کے خطیب تھے، وہ بھی اس تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔فوج نے انہیں مسجد وزیر خان سے گرفتار کیا۔وہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے ہتھکڑیاں لگا کر جیل لے جا رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ کئی پولیس والے اپنی بیرک سے مجھے حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کئے اور ہتھکڑی کو چوم کر آنکھوں سے لگالیا۔

میرے ساتھ چلنے والے سپاہیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا، ’’خدا کا شکر ہے کہ مجھے یہ ہتھکڑیاں کسی اخلاقی جرم کی وجہ سے نہیں لگیں۔مجھے فخر ہے کہ میں نے اللّٰہ کے حبیب ، شافع محشر کی ناموس اور ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر یہ زیور پہنا ہے‘‘۔ یہ سن کر وہ سپاہی خاصے متاثر ہوئے اور کہنے لگے، دل تو ہمارے آپ کے ساتھ ہیں لیکن ہم کچھ کر نہیں سکتے، ملازمت کا معاملہ ہے۔ میں نے کہا، یزیدی فوج بھی یہی کہتی تھی۔ اگر تم مجھے حق پر سمجھتے ہو تو اُسوۂ حُر پر عمل کرو۔ یہ سن کر وہ شرمندہ ہوگئے۔ قید کے دوران مجھے بارہا معافی مانگنے کے لئے کہا گیا مگر میں نے ہر بار انکار کیا۔ پھر فوجی عدالت نے مجھے موت کی سزا سنادی۔ حوصلے کا یہ عالم تھا کہ جامِ شہادت نوش کرنے کے لئے طبیعت مچلنے لگی۔میں اپنی قسمت پر ناز کرنے لگا کہ ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر جان کی قربانی پیش کرنے کی سعادت ملنے والی ہے۔ تین روز بعد فوجی عدالت نے خود ہی میری سزائے موت چودہ سال قید میں تبدیل کردی۔

اُدھر سکھر جیل میں علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری علیہ الرحمہ کو یہ اطلاع ملی کہ ان کے اکلوتے بیٹے سید خلیل احمدقادری کو سزائے موت دیدی گئی ہے۔ آپ نے نہایت صبر و سکون کے ساتھ یہ خبر سنی اور فرمایا، ’’ الحمدللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ نے میرا یہ معمولی ہدیہ قبول فرما لیا ہے‘‘۔ تقریباً ایک ماہ بعد جب حقیقت معلوم ہوئی تو اپنے بیٹے کو خط لکھا،’’مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا کہ تم رتبۂ شہادت حاصل نہیں کرسکے، لیکن بہرحال یہ جان کردل کو اطمینان ہوا کہ تم تحفظِ ختم نبوت کی خاطر لڑ رہے ہو‘‘۔

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک اہم نام مولانا عبدالستار خاں نیازی علیہ الرحمہ کا ہے جو قائدین کی گرفتاری کے بعد تحریک کے مرکز مسجد وزیر خاں میں مسلمانوں کی قیادت کرتے رہے۔آخر کار مولانا نیازی کوبھی گرفتار کر کے پھانسی کی سزا سنادی گئی۔ جو بعد ازاں عمر قید میں تبدیل کردی گئی۔

مولانا نیازی فرماتے ہیں، ’’جب تحریک ختم نبوت کے بعد میری رہائی ہوئی توایک موقع پر کسی صحافی نے میری عمر پوچھی۔ میں نے جواب میں کہا،میری عمر وہ دن اور راتیں ہیں جو میں نے ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاری ہیں کیونکہ یہی میری قابلِ فخر زندگی ہے اور باقی شرمندگی‘‘۔

مولانا عبدالستار خاں نیازی علیہ الرحمہ نے ایک انٹرویو میں کہا، ’’یہ تحریک اس لئے چلی کہ مسلمان کی تعریف کی جائے۔ اسلامی شریعت کے مطابق جو شخص مسلمان نہیں اور اسلام کا دشمن ہے، وہ کلیدی اسامیوں پر نہیں رہ سکتا۔ اُس دور میں ظفر اللّٰہ وزیر خارجہ تھا اور وہ عالمِ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش کر رہا تھا۔ ہر جگہ مرزائیوں کو سفارت خانوں میں رکھ رہا تھا۔اُس کا دماغ اس حد تک خراب ہوگیا تھا کہ اس نے قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ بھی نہیں پڑھی۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ نمازِ جنازہ کیوں نہیں پڑھی تواس نے جواب دیا، یہ سمجھ لو کہ ایک مسلمان نے کافر کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی یا ایک کافر نے مسلمان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up