Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 95 of 115

وہ کہتا ہے کہ غلامی میں ہی دین کی رونق ہے، اس کی تمام زندگی خودی سے محروم ہے۔وہ غیروں کی دولت کو رحمت سمجھتا ہے۔ اس نے گرجا کے گرد رقص کیا اور مر گیا۔

(مثنوی پس چہ باید کرد) ’’جاوید نامہ‘‘ سے یہ دو اشعار بھی ملاحظہ کیجیے۔

صحبتش با عصر حاضر در گرفت حرفِ دیں را از دو ’’پیغمبر‘‘ گرفت آں ز ایراں بود و ایں ہندی نژاد آں ز حج بیگانہ و ایں از جہاد

ترجمہ:’’وہ عصرِ حاضر کی صحبت اختیار کر چکا ہے اور اب دو جعلی پیغمبروں سے دین سیکھتا ہے۔ ان میں سے ایک ایرانی (بہاء اللّٰہ) ہے اور دوسرا ہندی (مرزا قادیانی)، پہلے نے حج منسوخ کردیا اور دوسرے نے جہاد‘‘۔

مرزا دجال کے جہاد منسوخ کر دینے کے خلاف اقبال نے بہت کچھ لکھا ہے۔

فتویٰ ہے شیخ کا، یہ زمانہ قلم کا ہے

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

تعلیم اس کو چاہیے ترکِ جہاد کی

دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو خطر

باطل کے فال وفر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تاکمر

ہم پوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات

اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر؟

اقبال، انگریزی’’ نبوت‘‘ کو ’’بھنگ‘‘ کا نشہ کہتے ہیں، میں نہ عارف نہ مجدد نہ محدث نہ فقیہ مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام ہاں مگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر فاش ہے مجھ پہ ضمیرِ فلکِ نیلی فام وہ نبوت ہے مسلماں کے لئے برگِ حشیش جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام ’’ضربِ کلیم‘‘ ہی سے مزید چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

ہو بندۂ آزاد اگر صاحبِ الہام

ہے اُس کی نگہ فکر وعمل کے لئے مہمیز

محکوم کے الہام سے اللّٰہ بچائے

غارت گرِ اقوام ہے وہ صورتِ چنگیز

مسلمانوں کو انگریز کا حامی بنانے کے متعلق فرماتے ہیں،

فتنۂ ملتِ بیضا ہے امامت اُس کی

جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے

مرزا دجال کے الہام نے امت کا اتحادپارہ پارہ کیا۔ اقبال کہتے ہیں، ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملت وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد ڈاکٹر اقبال نے ایک طرف مرزا قادیانی کے افکار کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور دوسری طرف اپنی شاعری کے ذریعے آقا ومولیٰ کی عظمت ومحبت کا درس دیا۔

کی محمد سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں 

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

تحریک ختم نبوت 1953ء: قیامِ پاکستان کے بعدقادیانیوں کے خلاف پہلی بار 1953ء میں تحریک چلائی گئی جس کے آغاز کا سبب یہ ہوا کہ اورنگ زیب پارک صدر کراچی میں قادیانیوں نے جلسہ کیا جس میں اُس وقت کے وزیر خارجہ سر ظفر اللّٰہ نے بھی تقریر کی۔ جلسہ کے بعد قادیانیوں نے مسلمانوں کو مارا پیٹا۔

یوں تحریک کا آغاز ہوا۔ تحریک کے دوران مسلمانوں کے تین مطالبات تھے۔

اول: قادیانیوں کو قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

دوم: ظفراللّٰہ قادیانی کو وزیرِ خارجہ کے منصب سے ہٹایا جائے ۔

اور سوم: ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔

اس تحریک میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء شامل تھے اور سب نے متفقہ طور پر تحریک کی قیادت اہلسنت کے جید عالم علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری علیہ الرحمہ کے سپرد کی تھی۔

تحریک کے دوران مرکزی قائدین کو گرفتار کر کے سکھر جیل میں نظربند کردیا گیا۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرجنرل اعظم خان اور میجر جنرل احیاء الدین قادیانی نے مسلمانوں پر بے پناہ ظلم وستم کیا، نہتے مسلمانوں پر گولیاں چلائی گئیں حتیٰ کہ ارضِ پاک کی سڑکیں مجاہدینِ ختم نبوت کے خون سے رنگین کر دی گئیں۔پورے ملک میں دس ہزار سے زائد مسلمانوں کو قادیانیوں کی خاطر شہید کر دیاگیا۔

Share:
keyboard_arrow_up