’’بانی ٔ فرقہ احمدیہ کا اپنی نبوت کے بارے میں پہلا استدلال یہ ہے کہ اگر حضور کا روحانی فیضان کسی امتی کو منصبِ نبوت پر فائز نہ کرسکے تو یہ اس فیضان کے نقص کی دلیل ہے۔
لیکن اگر اس استدلال کو قبول کرتے ہوئے یہ پوچھا جائے کہ کیا حضور کا فیض روحانی ایک سے زیادہ اقلیتوں کو منصبِ نبوت پر سرفراز کرسکتا ہے تو جواب ملے گا،’’ نہیں‘‘۔ اس کا تو یہی مطلب ہوا کہ :’’محمدخاتم النبیین نہیں ، میں خاتم النبیین ہوں‘‘۔ اس طرح یہ مدعی ٔ نبوت اپنے اس محسن کی خاتمیت کو خاموشی سے چرا لے جانا چاہتا ہے جس کے متعلق اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے کرمِ خاص سے ہی وہ نبی بنا ہے‘‘۔
’’بانی ٔ فرقہ احمدیہ دوسرا استدلال یہ پیش کرتے ہیں کہ وہ حضرت محمد کا ’’بروز‘‘ ہیں۔ان کی خاتمیت درحقیقت حضور کی خاتمیت ہے۔لیکن اس استدلال سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ سرے سے ’’خاتمیت‘‘ کے مفہوم ومعنی سے ہی بے خبر تھے‘‘۔
پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط میں ۲۱ جون ۱۹۳۶ء کو ڈاکٹر اقبال نے قادیانیوں کے سیاسی رویے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا، ’’میرے ذہن میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں‘‘۔
ڈاکٹر محمد اقبال نے مرزائیوں کی دو نوں شاخوں (قادیانی اور لاہوری) کو خارج از اسلام قرار دے کر ’’انجمن حمایتِ اسلام‘‘ کے دروازے ان پر بند کردیے تھے۔کوئی قادیانی یا لاہوری اس کا ممبر نہیں بن سکتا تھا۔
آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے بھی جابجا ختم نبوت کا مسئلہ اُجاگر کیاہے۔
پس خدا بر ما شریعت ختم کرد
بر رسولِ ما رسالت ختم کرد
رونق از ما محفلِ ایام را
اور رُسُل را ختم کرد اقوام را
خدمتِ ساقی گری با ما گذاشت
داد ما را آخریں جامے کہ داشت
لانبی بعدی زاحسانِ خدا است
پردۂ ناموسِ دینِ مصطفی است
قوم را سرمایۂ قوت ازد حفظِ سرِ وحدت
ملت ازد ترجمہ:’’خدا نے ہم پر شریعت ختم کی اور ہمارے رسول پر رسالت ختم کی۔ ہم سے جہاں میں رونق ہے، آپ نے رسولوں کو ختم کیا اور ہم نے قوموں کو۔ ساقی گری کی خدمت اُس نے ہمارے سپرد کی اور جو آخری جام تھا،ہمیں دے دیا۔ ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘(حدیث)خدا کے احسانات میں سے ایک ہے اور اس سے دینِ مصطفیٰ کی عزت کا بھرم قائم ہے۔ اسی سے قوم کو قوت کی دولت ملی، اور ملت کی وحدت کا راز بھی یہی ہے‘‘۔
ترجمانِ حقیقت کے کلام کا ایک اور حصہ ملاحظہ فرمائیے۔
عصرِ من پیغمبرے ہم آفرید آنکہ در قرآن بغیر از را ندید تن پرست و جاہ مست و کم نگہ اندرونش بے نصیب از لا اِلٰہ در حرم زاد و کلیسا را مرید پردۂ ناموسِ ما را پر درید دامنِ او را گرفتن ابلہی است سینۂ او از دل روشن تہی است الحذر! از گرمیٔ گفتارِ او الحذر! از حرفِ پہلو دارِ او شیخِ او لرد فرنگی را مرید گرچہ گوید از مقامِ بایزید گفت دین را رونق از محکومی است زندگانی از خودی محرومی است دولتِ اغیار را رحمت شمرد رقصہا گردِ کلیسا کرد و مُرد
ترجمہ: میرے زمانے میں ایک نبی بھی پیدا ہوا، جس کو اپنے سوا قرآن میں کچھ نظر نہ آیا پیٹ کا پجاری، عزت ومرتبہ چاہنے والا، کوتاہ نظر، اس کا دل کلمہ طیبہ کی حقیقت سے محروم ہے۔ مسلمان کے گھر پیدا ہوا اور عیسائیوں کا غلام بنا، اس نے ہماری عزت کا پردہ چاک کرایا۔ اس سے وابستہ ہونا حماقت ہے کیونکہ اس کا سینہ دل کی روشنی سے خالی ہے۔ ہوشیار!اس کی چرب زبانی سے بچو، اور اس کی مکارانہ باتوں سے بچو۔اس کا پیر شیطان اور فرنگی کا غلام ہے۔اگرچہ وہ کہتا ہے ، میں بایزید کے مقام سے بولتا ہوں۔

