Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 93 of 115

مولوی صاحب نے اہل حدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء میں لکھ دیا کہ ’’مجھے یہ فیصلہ منظور نہیں اور کوئی دانا اسے مان بھی نہیں سکتا‘‘۔

پس مباہلہ کی دعوت مولوی ثناء اللّٰہ نے قبول ہی نہیں کی۔ اب مرزا کے مرنے کے بعد خود جاہل ونادان بن گئے اورکہنے لگے کہ مرزا صاحب اسی فیصلے کے مطابق مر گئے۔

مولوی صاحب اہلحدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء میں لکھ چکے تھے کہ مفتری کی رسی دراز ہوتی ہے۔ تو خدا نے اسی اصول پر فیصلہ کر دیا ۔نیزمولوی صاحب نے کبھی تو اسے مباہلہ ہی تسلیم نہیں کیا اور کبھی لکھا کہ مرزا نے مباہلہ میں شکست کھائی ہے۔ مولوی صاحب کو یہ بھی تسلیم ہے کہ مباہلہ کی میعاد مرزا صاحب کی وفات سے پہلے ختم ہو چکی ہے۔ تو اب وفاتِ مرزا کو مباہلہ میں داخل کرنا بالکل غلط ہوگا۔

مئی ۱۹۰۸ء میں مرزا تبلیغ کے لئے لاہور آیا، اس کا ارادہ لاہور سے سیالکوٹ جانے کا تھا۔ اس کے مقابل کچھ فاصلے پر پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری علیہ الرحمہ قادیانیت کا رَد کرنے میں مصروف تھے جنہیں مرزا دجال قادیانی کے خلاف مسلمانوں نے لاہور بلایا تھا۔ ۲۲ مئی ۱۹۰۸ء کو امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری علیہ الرحمہ نے بادشاہی مسجد لاہور میں جمعۃ المبارک کے خطبے میں مرزا کذاب کو مباہلے کا چیلنج دیا اور مرزا کی ہلاکت کی دعا کرائی جس پر ہزاروں مسلمانوں نے آمین کہا۔ مرزا لاہور ہی میں موجود ہونے کے باوجود مباہلے کے لئے نہ آیا۔ آپ نے فرمایا، ’’میری عادت پیش گوئی کرنے کی نہیں مگر مجبوراً کہتا ہوں کہ اگر مرزا کو سیالکوٹ جانے کی طاقت ہے تو وہاں جاکر دکھلائے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ وہاں کبھی نہیں جا سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ اس کو توفیق ہی نہیں دے گا کہ سیالکوٹ جا سکے۔آپ سب لوگ گواہ رہو کہ مرزا بہت جلد ذلت آمیز موت سے دوچار ہو گا‘‘۔ بالآخر امیر ملت علیہ الرحمہ نے ۲۵ مئی۱۹۰۸ء کی شب، ہزاروں مسلمانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، ’’ ہم کئی روز سے مرزا کے مقابلہ میں آئے ہوئے ہیں۔پانچ ہزار کا انعام بھی مقرر کیا ہوا ہے کہ جس طرح چاہے وہ ہم سے مناظرہ کرے یا مباہلہ کرے اور اپنی کرامتیں دکھائے لیکن وہ مقابلہ میں نہیں آیا اور نہ ہی آئے گا۔

کیونکہ میرا نبی سچا ہے اور میں صدقِ دل سے اس سچے نبی کا غلام ہوں۔ پیشگوئی کرنا میری عادت نہیں لیکن آج میں مجبوراًکہتا ہوں، آپ دیکھیں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ چوبیس گھنٹوں میں اپنے حبیب پاک کے صدقے میں ہمیں اس کذاب سے نجات عطا فرمائے گا‘‘ ۔ اسی رات مرزا ہیضہ سے بیمار ہوگیا اور اگلے دن صبح دس بجے مر گیا۔گویا اللّٰہ تعالیٰ کے ولی کی زبان سے نکلی ہوئی مرزا دجال کی موت کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔

مفتی عبداللّٰہ صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نے فرمایا، ہم پہلے تو اس پیش گوئی کو معمولی سمجھتے تھے، آخر وہ تو سب سے بڑھ کر نکلی۔اس پیشین گوئی کی صداقت نے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی تمام پیشین گوئیوں اور الہاموں سے بڑ ھ کر نمبر لئے ہیں دنیا نے دیکھ لیا کہ پیشین گوئی یوں ہوتی ہے جس میں نہ تاویل کی ضرورت ہے نہ شرائط لگائی گئی ہیں اور نہ فریقِ مخالف کی منظوری یا عدم منظوری کو دخل ہے۔

ایک ولی ٔ کامل اور سید بادشاہ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں مرزا ذلت آمیز موت سے دوچار ہوکر واصلِ جہنم ہوگیا۔

ڈاکٹر اقبال اور مرزا قادیانی: شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور ان کی فکر محبتِ رسول کے جذبے سے سرشار تھی۔ابتدا میں اقبال نے قادیانی تحریک کو مذہبی تحریک خیال کرکے اس کی حمایت کی لیکن جلد ہی انہیں قادیانیوں کے اسلام دشمن اور کافر ومرتد ہونے کا احساس ہوگیا۔

آپ کا ایک مضمون انجمن خدام الدین لاہور کے جریدے ’’اسلام‘‘ کے ۲۲ جنوری ۱۹۳۶ء کے شمارے میں شائع ہوا، جس کے چند اقتباسات کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے،

Share:
keyboard_arrow_up