شاید وہ گمراہ یہاں بھی کہہ دے کہ تمام مہاجرین کرام مہاجربالعرض تھے، حضرت عباس مہاجر بالذات ہوئے۔
ایک اور حدیثِ الٰہی جلَّ وعُلا کہ میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم کروں گا اور ان کے دین وشریعت پر ادیان وشرائع کو۔ او گمراہ! اب یہاں بھی کہہ دے کہ اور دین ، دین بالعرض تھے یہ دین، دین بالذات ہے۔ توریت وانجیل وزبور اللّٰہ تعالیٰ کے کلام بالعرض تھے، قرآن کلام بالذات ہے
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے۱۳۲۰ ھ/۱۹۰۲ء میں دوسرا رسالہ ’’اَلسُّوْ ءُوَالْعِقَابُ عَلیَ الْمَسِیْحِ الْکَذَّابِ‘‘ (جھوٹے مسیح پر وبال اور عذاب)لکھا جس میں مرزا کذاب کے دس کفریہ عقائد لکھ کر اس کا کافر ومرتد ہونا ثابت کیا۔
مرزادجال کے دعویٔ مسیح ومثلِ مسیح کے خلاف حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ پہلے ہی ایک کتاب ’’الصارم الربانی علیٰ اسراف القادیانی‘‘ تحریر کر چکے تھے۔ قادیانی مرتد کے خلاف ۱۳۲۳ھ/ ۱۹۰۵ء میں اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت علیہ الرحمہ نے رسالہ ’’قَہْرُ الدَّیَّانِ عَلٰی مُرْتَدٍّ بِقَادِیَانٍ‘‘ (قادیانی مرتد پر قہر خداوندی) اور ۱۳۲۶ ھ /۱۹۰۸ء میں رسالہ ’’اَلْمُبِیْن خَتْمُ النَّبِیِّیْنَ‘ ‘ تحریر فرمایا۔۱۳۲۴ھ /۱۹۰۶ء میں آپ نے ایک استفتاء علماءِ حرمین کی خدمت میں بھجوایا جس پر وہاں کے علماء نے مرزا اور بعض علماءِ سوء کی تکفیر کی جو ’’ حُسّام الحرمین‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔
۱۳۳۵ھ / ۱۹۱۶ء میں آپ نے ’’بابُ العقائد وَالکلام‘‘اور ۱۳۴۰ ھ/ ۱۹۲۱ء میں ’’اَلْجُرَازُ الدَّیَانِیْ عَلیَ الْمُرْتَدِّ الْقَادْیَانِیْ‘‘ (قادیانی مرتد پر خدائی خنجر) تحریر فرما کر قادیانی فتنہ کی کمر توڑ دی۔
اسی سال ۲۵ صفر کو آپ کا وصال ہوا۔ قادیانیوں کے خلاف ان مشہور رسائل کے علاوہ بھی آپ کے کئی فتاویٰ، فتاویٰ رضویہ اور احکامِ شریعت میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔
آپ ایک فتویٰ میں رقمطراز ہیں، قادیانی مرتد ہے، اس کا ذبیحہ محض نجس ومردار حرامِ قطعی ہے۔
مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانی کو مظلوم سمجھنے والا اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم و نا حق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے۔
تعجب ہے کہ مرزا دجال کے خلاف اُس وقت علماء دیوبند میں سے کسی کو ایک لفظ لکھنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔بلکہ مولوی رشیدگنگوہی نے تو مرزا دجال کو ’’مردِصالح‘‘ قرار دیا ۔دیوبندیوں کے بقول تھانوی صاحب کی ہزار سے زائد کتب ہیں مگر افسوس ! کہ ان میں سے ایک کتاب بھی مرزا دجال کے رَد میں نہیں ہے۔
امیرملت کی پیش گوئی: بعض لوگ کہتے ہیں کہ مولوی ثناء اللّٰہ امرتسری سے مباہلے کی وجہ سے مرزا ہلاک ہوا، یہ درست نہیں۔ علامہ محمد عالم آسی امرتسری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ’’الکاویہ علی الغاویہ‘‘ میں اس بارے میں عمدہ تحقیق کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: جب مولوی صاحب نے مرزا کو جھوٹا کہا تو مرزائیوں نے لکھا ، کتاب حقیقۃ الوحی پر آپ نے یہ لکھنا ہے کہ’’ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر عذاب نازل ہو‘‘۔
یہی بات مرزا صاحب بھی لکھ دیں گے۔ اس پر مولوی صاحب نے لکھا کہ عذاب کی تعیین کرو تو مباہلہ کروں گا۔ اس پر مرزا نے اپنی طرف سے اشتہار دیدیاکہ: ’’مولوی ثناء اللّٰہ مجھے مفتری جانتا ہے۔ یا اللّٰہ ! تو جھوٹے اور سچے میں فرق کرتا کہ دنیا گمراہی سے بچ جائے۔ تو ایسا کر کہ اگر میں سچا ہوں تو میری زندگی میں ہی مولوی ثناء اللّٰہ کو کسی مہلک مرض میں مبتلا کر، یا میرے سامنے ہی اسے موت دے، اگر میں جھوٹا ہوں تو اس کی زندگی میں ہی مجھے دنیا سے اٹھا لے۔ یہ الہام نہیں ، دعا ہے۔ مولوی صاحب جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں‘‘۔

