آپ نے بعد میں فرمایا، میں نے یہ بات یوں ہی نہیں کہی تھی، مجھے مکمل طور پر تائیدِ ایزدی اور حمایتِ نبوی حاصل تھی۔ اگر میں اس سے بڑا دعویٰ بھی کرتا تو اللّٰہ تعالیٰ ضرور مجھے سرخرو فرماتا۔
مقررہ دن ۲۵ جولائی ۱۹۰۰ء کو آپ بادشاہی مسجد لاہور پہنچ گئے مگر مرزا شکست کے خوف سے نہ آیا۔مناظرہ سے فرار کے بعد مرزا نے دو کتابیں لکھیں جن کے جواب میں پیر صاحب نے ۱۹۰۲ء میں ’’سیفِ چشتیائی‘‘ تصنیف فرمائی ۔ آپ کے دلائل و براہین نے قادیانی قلعہ مسمار کر کے رکھ دیا۔
اعلیٰ حضرت بریلوی کا قلمی جہاد: ختم نبوت کے منکروں کے خلاف اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے ۱۳۱۷ھ / ۱۸۹۹ء میں ایک جامع کتاب ’’جَزَاءُ اللّٰہِ عَدُوّہٖ بِاَبَائِہٖ خَتْمِ النُّبُوَّۃِ‘‘ (دشمنِ خدا کے ختم نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزاء)لکھ کر باطل عقائد پر کاری ضرب لگائی۔ آپ نے اس کتاب میں 120 احادیث مبارکہ تحریر فرماکر ختم نبوت کا عقیدہ واضح کیا۔ مذکورہ احادیث 60صحابہ اور 11تابعین سے مروی ہیں۔ کتاب کے آخر میں بانی ٔ دیوبند مولوی قاسم نانوتوی کے ختمِ نبوت کے انکار پر مبنی کفریہ عقیدے کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ’’(فقیر نے)سو سے زائد حدیثیں وہی جمع کیں کہ بالتصریح حضور کا اس معنی پر خاتم ہونا بتا رہی ہیں جسے وہ گمراہ ضال عوام کا خیال جانتا ہے اور اس میں نبی کے لئے کوئی تعریف نہیں مانتا۔
صحابہ کرام وتابعین عظام کے ارشادات مثلاً:
۱۔حضرت عمر نے عرض کی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضور کو سب انبیاء کے بعد بھیجا۔
۲۔ حضرت انس کا قول کہ تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیں۔
۳۔ عبداللّٰہ بن ابی اوفیٰ کا ارشاد کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۴۔امام باقر کا قول کہ وہ سب انبیاء کے بعد بھیجے گئے۔ انہیں تو یہ گمراہ کب سنے گا کہ وہ اسی وَسْوَسَۃُ الْخَنَّاس میں صاف یہ خود بتا گیا ہے کہ وہ سلف صالح کے خلاف چلا ہے اور اس کا عذر یوں پیش کیا کہ: ’’اگر بوجہ کم التفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو ان کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفلِ ناداں نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا وہ عظیم الشان ہوگیا‘‘۔
آنکھیں کھول کر خود محمد رسول اللّٰہ خاتم النبیین کی متواتر حدیثیں دیکھئے کہ:
۱۔ میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔ میں سب انبیاء میں آخری نبی ہوں۔
۳۔میں تمام انبیاء کے بعد آیا۔
۴۔ہمِیں سب نبیوں میں پچھلے ہیں۔
۵۔میں سب پیغمبروں کے بعد بھیجا گیا۔
۶۔قصرِ نبوت میں ایک اینٹ کی جگہ تھی جو مجھ سے کامل کی گئی۔
۷۔میں آخر ُ الانبیاء ہوں۔
۸۔میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۹۔رسالت ونبوت منقطع ہوگئی، اب نہ کوئی رسول ہو گا نہ نبی۔
۱۰۔نبوت میں سے اب کچھ نہ رہا سوائے اچھے خواب کے۔
۱۱۔میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
۱۲۔میرے بعد دجال کذاب نبوت کا دعویٰ کریں گے۔
۱۳۔میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۱۴۔نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔
پھر مزید کئی ارشادات لکھ کر فرماتے ہیں، مگر یہ(نانوتوی) ضال مُضِل، محرفِ قرآن، مغیر ایمان ہے کہ نہ ملائکہ کی سنے نہ انبیاء کی، نہ مصطفیٰ کی مانے نہ اُن کے خدا کی۔ سب کی طرف سے ایک کان گونگا ایک بہرا، ایک دیدہ اندھا ایک پھُوٹا۔اپنی ہی ہانک لگائے جاتا ہے کہ یہ سب نافہمی کے اوہام، خیالاتِ عوام ہیں،
آخر ُ الانبیاء ہونے میں فضیلت ہی کیا ہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
ہاں ! ان90 حدیثوں میں تین حدیثیں صرف بلفظ خاتمیت بھی ہیں۔ سید عالم کی حدیث کہ اے چچا! جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ پر نبوت ختم کی تم پر ہجرت کو ختم فرمائے گا، جیسے میں خاتم النبیین ہوں تم خاتم المہاجرین ہوگے۔

