پس خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی میں مسیح موعود کی کوئی ایک نشانی بھی نہیں پائی جاتی لہٰذا مرزا کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اس کے نبوت کے دعوی کی طرح بے بنیاد اور باطل ہے۔
البتہ مرزا کذاب اُس حدیث کا مصداق ضرور ثابت ہوتا ہے جس میں تیس جھوکٹے دجالوں کے ظہور کی خبر دی گئی ہے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔
باب ہشتم
قادیانی فتنہ کے خلاف علماءِ حق : ۱۸۸۲ء میں مرزا قادیانی کی کتاب براہینِ احمدیہ کا حصہ سوم شائع ہوا تو علمائے اہلسنت میں سے سب سے پہلے مولانا مفتی غلام دستگیرہاشمی قصوری علیہ الرحمہ نے اس فتنہ کو بھانپتے ہوئے۱۸۸۳ء میں مرزا کے رد میں ایک کتاب ’’تحقیقاتِ دستگیریہ فی ردِّ ہفواتِ براھینیہ‘‘ لکھی اور مرزا سے توبہ کا مطالبہ کیا۔ پھر اسی کتاب کا عربی میں ترجمہ کرکے علمائے حرمین کی خدمت میں پیش کیا جس پر وہاں کے علماء نے اس کتاب کی تصدیق کی اور اس پر تقاریظ لکھیں۔مرزا قادیانی کے خلاف جن علمائے اہلسنت نے شروع ہی سے قلمی اور لسانی جہاد کیا، ان میں مفتی غلام قادر چشتی بھیروی، مولانا نواب الدین رمداسی، مولانا غلام رسول نقشبندی امرتسری، علامہ قاضی فضل احمد لدھیانوی، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان بریلوی، پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی، محدثِ دکن مولانا انوار اللّٰہ فاروقی، مفتی ٔ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان بریلوی،محدثِ اعظم ہند کچھوچھوی اور مولانا کرم الدین دبیر جہلمی علیہم الرحمہ وغیرہ نمایاں ہیں۔
اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے تما م خلفاء خصوصاً: صدرُالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی، صدرُ الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی، مولانا سید محمد دیدار علی شاہ محدث الوری اور ان کے تمام خلفاء و تلامذہ علیہم الرحمہ نے قادیانی فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ قلمی جہاد میں حیدرآباد دکن کے پروفیسر محمد الیاس برنی کا ذکربہت ضروری ہے جنہوں نے عام سادہ زبان میں ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ ‘‘ لکھ کر قادیانی مذہب کا لاجواب پوسٹ مارٹم کیااور ان کے مذہب کی دھجیاں بکھیر دیں۔
’’مولانا محمد حسن فیضی علیہ الرحمہ نے ۱۳ فروری ۱۸۹۹ ء کو مسجد حکیم الدین سیالکوٹ پہنچ کر مرزا کذاب کو اپنا ایک غیر منقوط عربی قصیدہ دیا اور فرمایا، اگر آپ کو الہام ہوتا ہے تو اس کا ترجمہ حاضرین کو سنا دیں۔ مرزا نے کچھ دیر قصیدہ دیکھا اور پھر کہا، مجھے تو اس کی کچھ سمجھ نہیں آرہی، آپ اس کا ترجمہ کر کے دیں۔مولانا نے ۹ مئی ۱۸۹۹ء کو یہ واقعہ ’’سراج الاخبار‘‘ میں چھپوا دیا اور مرزا کو چیلنج دیا کہ جہلم میں کسی جگہ مجھ سے مناظرہ کرلیں، تحریری یا تقریری، نثر میں یا نظم میں، عربی میں یا فارسی میں یا اردومیں۔ عبرتناک بات یہ ہے کہ جب تک علامہ فیضی حیات رہے مرزا قادیانی کو چیلنج قبول کرنے کی جرأت نہ ہو سکی، کوئی رسوائی سی رسوائی تھی‘‘۔
پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ نے مرزا کے مسیح موعود ہونے کے دعوے کے جواب میں ۱۸۹۹ ء میں ایک معرکۃ الآرا کتاب ’’شمس الہدایہ‘‘ لکھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر زبردست دلائل قائم کئے۔ اس کتاب نے قادیانیوں میں تہلکہ مچا دیا۔ مرزا نے پیر صاحب کو تفسیر نویسی کے تحریری مناظرے کی دعوت دی جسے آپ نے نہ صرف فوراً قبول کیا بلکہ فرمایا،ممکن ہے اس طرح مناظرے میں فیصلہ نہ ہوسکے۔
لہٰذا کاغذ پر اپنے اپنے قلم رکھ دیے جائیں جس کا قلم خودبخود تفسیر لکھے، وہ سچا ہوگا۔

