رائے محمد کمال رقمطراز ہیں، ’’مناظرے کے نام پر گالی گلوچ اور اشاعتِ اسلام کے پردے میں توہینِ رسالت کا سامان!تاریخی نقطۂ نظر سے یہ موقف بالکل بجا ہے کہ تحریک شماتتِ رسول بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
گویا دونوں طبقے برطانوی شطرنج کے مہرے تھے اور شاطر افرنگ کے اشارے پر ہی فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی گئی۔ مگر سبب کچھ یوں پیدا ہوا کہ مرزا قادیانی نے آریہ سماجیوں کو اپنے رجحانِ طبعی کے موافق مسلسل غلیظ گالیاں سنائیں اور ہندو دھرم پر سوقیانہ انداز میں حملے کئے۔ نتیجتاً آریہ سماج نے رسولِ اکرم، قرآن اور اسلام کے خلاف دریدہ دہنی کا آغاز کردیا۔
آنجہانی مرزا کے اخلاق کا یہ حال تھا کہ وہ ہندو مت اور عیسائی مذہب کو کھلم کھلا مغلظات سنایا کرتا۔ جوابِ آں غزل کے طور پر، نبی ٔ رحمت کے خلاف بدزبانی کا دروازہ کھل گیا اور ہمارے آقا ومولا پر سَبّ وشتم روزمرہ کا معمول ہوگیا۔‘‘
عیسائی اور یہودی ہمیشہ سے اسلام کے دشمن رہے ہیں ۔ ماضی قریب میں بھی انہوں نے اسلام کے خلاف کئی سازشیں کیں، سلمان رشدی ملعون، تسلیمہ نسرین ملعونہ، ڈنمارک کے رسوائے زمانہ گستاخانہ خاکے وغیرہ۔ بعض سازشیں ظاہر ہیں اور بعض خفیہ۔
ایک سازش کا ذکر مشہور بیوروکریٹ مسعودکھدرپوش نے جو قیام پاکستان کے وقت ضلع نواب شاہ، سندھ کے ڈپٹی کمشنر تھے، کیا ہے جس سے اہلِ مغرب کی شیطانی جدوجہد اور خطرناک منصوبہ بندی کا ایک لرزہ خیزانکشاف ہوتا ہے۔ مسعود کھدرپوش اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں، ’’میں ۱۹۵۰ ء میں امریکہ لیکچر دینے گیا۔ اس کے منتظم ایک یہودی کمپنی کے سربراہ مسٹر سکانیک تھے جو پاکستان میں چار پانچ ماہ قیام کر چکے تھے وہاں کئی یہودیوں نے مجھ سے ملاقاتیں شروع کردیں جن میں باربار وہ یہ کہتے کہ دنیا جنگ کے خوف سے بہت پریشان ہے۔
ان حالات میں کسی ’’مہدی‘‘ کی آمد کی اشد ضرورت ہے۔ پھر کبھی کبھی مجھے سمجھاتے کہ آپ میں مہدی بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ آخرکار ایک روز تین حضرات میرے پاس نہایت ہی رازداری میں یہ بات کہنے آئے کہ ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ آپ مہدی بن سکتے ہیں۔ اگر آپ کچھ عرصہ امریکہ میں ٹھہر جائیں تو ہم آپ پر دس لاکھ ڈالر لگا کر آپ کو مہدی مشہور کر سکتے ہیں، پھر آپ کو پاکستان اور ہندوستان کا دورہ کرایا جائے گا اور آپ کے ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد پیدا ہوجائے گی‘‘۔
اسلام کے خلاف سازشیں کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔آج بھی وہ علماء سوء کو خرید کر اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں میں انتشار و افتراق کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ چودہ سو سال سے طے شدہ مسائل کو نئے انداز میں پیش کرکے اہلسنت کی طاقت کو تقسیم کیا جارہا ہے۔کہیں سیدنا علی المرتضیٰ کو سیدنا ابوبکر صدیق سے افضل بتایا جارہا ہے تو کہیں سیدنا امیر معاویہ پر تبرا کیا جارہا ہے۔ اور ان تمام سازشوں کے تانے بانے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سے جاملتے ہیں۔
مسلمانو! ہوشیار وخبردار! کوئی عالم ، کوئی مفتی، کوئی ڈاکٹریا کوئی پیر صاحب خواہ یہود و نصاریٰ کے ملک سے آئیں یا اسی ملک سے،وہ اگر کوئی نیا نظریہ پیش کریں یا جو مسائل اہلسنت کے اکابر علماء خصوصاً اعلیٰ حضرت امام احمدرضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ بیان فرما چکے، ان سے ہٹ کر کوئی نئی تحقیق پیش کریں تو اسے ٹھکرا دو ۔
اِس پُرفتن دور میں ہر نیا نظریہ مسلمانوں کو صراطِ مستقیم سے دور کرے گااور ان میں انتشار کا باعث ہوگا، اور یہی یہود ونصاریٰ کی ناپاک سازش ہے۔

