Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 101 of 115

انگریز دوستی اورعلماءِ دیوبند: تاریخ گواہ ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں سُنی علماء انگریز کے خلاف سینہ سپر رہے اور انہوں نے ہی عوامِ اہلسنت کے ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے جبکہ علماءِ دیوبند، شاہ اسماعیل دہلوی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انگریز کے وفادار رہے۔ جب ایک جلسۂ عام میں مولوی اسماعیل دہلوی سے پوچھا گیا کہ آپ انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ کیوں نہیں دیتے؟ وہابی مکتبۂ فکر کے مؤرخ مرزا حیرت دہلوی کے بقول شاہ اسماعیل دہلوی نے اس کے جواب میں کہا، ’’ان پر جہاد کسی طرح واجب نہیں ہے۔ ایک تو ہم ان کی رعیت ہیں، دوسرے ہمارے مذہبی ارکان ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست درازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح کی آزادی ہے بلکہ اگر ان پرکوئی حملہ آور ہوتو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں۔‘‘

افسوس !تحریکِ آزادی کے حقیقی مجاہدین کا ذکر نصابی کتب میں نہیں ملتا۔ اس کی وجہ صرف تعصب ہے کہ جو حق کہنے اور حق لکھنے سے محروم کردیتا ہے۔اس موضوع پر فقیر کی کتاب ’’تحریکِ آزادی میں علماءِ اہلسنت کا کردار‘‘ ملاحظہ فرمائیے۔

اکابرِدیوبند کی انگریز وفاداری کا حال دیوبندی عالم عاشق الٰہی میرٹھی لکھتے ہیں: ایک مرتبہ مولانا گنگوہی، مولانا نانوتوی وغیرہ کا بندوقچیوں یعنی مسلمان مجاہدین سے مقابلہ ہوگیا۔ ’’یہ نبرد آزما جتھا اپنی (انگریز) سرکار کے مخالف باغیوں کے سامنے سے بھاگنے یا ہٹ جانے والا نہ تھا۔ اس لئے اٹل پہاڑ کی طرح پر اجما کر ڈٹ گیا اور سرکار (انگریز) پر جان نثاری کے لئے تیار ہوگیا۔‘‘

یہی دیوبندی عالم لکھتے ہیں،’’ جن کے سروں پر موت کھیل رہی تھی انہوں نے کمپنی (انگریز حکومت) کے امن وعافیت کا زمانہ قدر کی نظر سے نہ دیکھا اور اپنی رحم دل گورنمنٹ کے سامنے بغاوت کا عَلم قائم کیا۔‘‘

اسی کتاب میں ہے کہ جنگِ آزادی کے بعد چند مفسدوں نے گنگوہی صاحب پر بھی بغاوت کا لزام لگایا لیکن وہ مطمئن رہے۔ بقول سوانح نگار، ’’آپ کوہِ استقلال بنے ہوئے خدا کے حکم پر راضی تھے اور سمجھتے تھے کہ جب میں حقیقت میں سرکار (انگریز) کا فرمانبردارہوں تو جھوٹے الزام سے میرا بال بھی بیکا نہ ہوگا، اور اگر مارا گیا تو سرکار (انگریز)مالک ہے، اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔‘

یہ ہیں انگریز سرکار کے وفادار علماءِ دیوبند مرزا قادیانی نے تو صرف قلم ہی کے ذریعے انگریز حکومت سے وفاداری نبھائی مگر رشید گنگوہی اور قاسم نانوتوی تومسلمان مجاہدین کے سامنے صف بنا کر انگریز سرکار پر جاں نثاری کے لئے تیار ہوگئے۔ کیا مذکورہ اقراری بیانات کے بعد ’’قادیانی اور دیوبندی، ایک چہرہ دوروپ‘‘ کا مصداق نہیں بن جاتے۔ مرزا قادیانی کو بھی انگریز حکومت کا زمانہ امن وعافیت کا زمانہ نظر آتا ہے اور علماء دیوبند کو بھی۔ وہ بھی انگریز حکومت کو رحم دل کہتا ہے اور یہ بھی یہی ’’تبلیغ‘‘ کرتے ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ! دیوبند کے مولوی اشرفعلی تھانوی سے کسی نے پوچھا، اگر آپ کی حکومت ہوجائے تو انگریزوں سے کیسا سلوک کرو گے؟

تھانوی صاحب کا جواب پڑھیے، ’’جب خدا نے حکومت دی تو محکوم بناکر ہی رکھیں گے، مگر ساتھ ہی اس کے نہایت راحت وآرام سے رکھا جائے گا، اس لئے کہ انہوں نے ہمیں آرام پہنچایا ہے۔‘‘

’’انہوں نے ہمیں آرام پہنچایا ہے‘‘کے الفاظ حقیقت کا اظہار ہیں۔ دیوبندی عالم شبیر احمد عثمانی نے دیوبندی اکابر کی موجودگی میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا تھا،

Share:
keyboard_arrow_up