Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 102 of 115

’’ان(مولانااشرف علی تھانوی صاحب) کو چھ سو روپیہ ماہ وار (انگریز) حکومت کی جانب سے دیے جاتے تھے۔

اسی کتاب میں تحریر ہے کہ دیوبندی تبلیغی جماعت کو ابتدا میں انگریز حکومت کی طرف سے بذریعہ حاجی رشید احمد کچھ روپیہ ملتا تھا، پھر بند ہوگیا۔

ان حوالوں کی کوئی دیوبندی عالم آج تک تردید نہ کرسکا۔یوں ہی انگریز حکومت نے اپنے تربیت یافتہ افراد سے مدرسہ دیوبند قائم کروایا جن میں نانوتوی صاحب کے علاوہ مولوی ذوالفقار علی، مولوی فضل الرحمن اور مولوی یعقوب نانوتوی تینوں حضرات ڈپٹی انسپکٹر مدارس کے عہدوں پر فائز رہے تھے۔ اس عہدے پر فائز ہونے والے افراد کو عام لوگ’’ کالے پادری‘‘ کہا کرتے تھے۔

مدرسہ دیوبند کا معائنہ کرنے کے لئے حکومت نے ایک انگریزکو بھیجا۔ اس کی رپورٹ پروفیسر محمد ایوب قادری دیوبندی کے قلم سے ملاحظہ کیجیے۔ ’’اس مدرسہ نے یوماً فیوماً ترقی کی۔   ۱۳ جنوری ۱۸۷۵ ء بروز یکشنبہ لیفٹیننٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمی ’’پامر ‘‘نے اس مدرسہ کو دیکھا تو اس نے نہایت اچھے خیالات کااظہار کیا۔

اس کے معائنے کی چند سطور درج ذیل ہیں: جو کام بڑے بڑے کالجوں میں ہزاروں روپے کے صَرف سے ہوتا ہے، وہ یہاں کوڑیوں میں ہورہا ہے یہ مدرسہ خلافِ سرکار نہیں بلکہ ممد ومعاونِ سرکار ہے۔‘‘

’’(مدرسہ دیوبند کے کارکنوں میں اکثریت) ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پنشنر تھے جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک وشبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔‘‘

دیوبندی فکر کیا ہے؟ آپ دیوبندی فکر کا مطالعہ کریں گےتو یہی بات سمجھ میں آئے گی کہ اس فکر کا مقصد رحمتِ عالم کی بے مثل شان اوربے مثال عظمت کو مسلمانوں کے ذہنوں سے نکالنااور اُنہیں محض اپنی ہی طرح کا ایک بشر بلکہ خود کو اُن کا ہمسر ثابت کرنا ہے۔ علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے بقول ’’اپنے آقایانِ نعمت کے اشارے پر دیوبندی گروہ کے سربراہوں نے کھل کر نبوت کا دعویٰ تو نہیں کیا لیکن محمد عربی کی پیغمبرانہ انفرادیت کو مجروح کرنے کے لئے منصبِ نبوت کے سارے لوازم اور خصوصی اوصاف اپنے درمیان تقسیم کرلئے۔

‘‘بانی ٔدیوبند مولوی قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس لکھ کر ختم نبوت کے انکارکا دروازہ کھولا۔ ان کا عقیدت مند لکھتا ہے،ایک دن آپ نے حاجی امداد اللّٰہ صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ کبھی کبھی بیٹھے بٹھائے میرا سینہ بوجھل معلوم ہوتا ہے۔ جواب ملا: ’’یہ نبوت کا آپ کے قلب پر فیضان ہوتا ہے اور یہ وہ ثقل(بوجھ) ہے جو حضور سرورِ عالم کو وحی کے وقت محسوس ہوتا تھا۔‘‘

مولوی رشید گنگوہی نے فتویٰ دیا،لفظ ’’رحمۃ اللعالمین‘‘ حضور  ہی کی صفتِ خاص نہیں بلکہ دیگر انبیاء، اولیاء اور علماء کو بھی کہہ سکتے ہیں۔

نہ جانے آقا ومولیٰ کے خصائص وکمالات ماننے سے علماء دیوبند کو کیا پریشانی لاحق ہوتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جو کمالات علماء دیوبند حضور کیلئے ماننا شرک کہتے ہیں وہ اپنے مولویوں کے لئے بلاتکلف مانتے ہیں۔

دیکھئے: زلزلہ از علامہ ارشد القادری گنگوہی صاحب کی موت پر لکھے گئے مرثیہ کے دو اشعار ملاحظہ ہوں:

زبان پر اہلِ ہوا کی ہے کیوں اُعل ہُبل شاید اُٹھا عالم سے کوئی بانی ٔ اسلام کا ثانی مُردوں کو زندہ کیا اور زندوں کو مرنے نہ دیا اس مسیحائی کو دیکھیں ذرا ابنِ مریم رشیدگنگوہی کو دیوبند کے شیخ الہند مولوی محمود الحسن نے بانی ٔاسلام کا ثانی قرار دیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے تو صرف مُردوں کو زندہ کیا تھا مگر ہمارے گنگوہی صاحب نے تو مُردوں کو زندہ بھی کیا اور زندوں کو مرنے بھی نہیں دیا۔ بتاؤ! کس کا کمال بڑا ہے؟ قادیانیوں کی طرح علماء دیوبند کے نزدیک بھی انبیاء کرام سے اپنے اکابر کا موازنہ کر کے ان کی بڑائی ثابت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up