Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 103 of 115

دیوبندی حضرات، اہلسنت کو تو طعنہ دیتے ہیں کہ تم نبی کریم اکی شان میں مبالغہ کرتے ہو، کیا کوئی دیوبندی عالم یہ بتا سکتے ہیں کہ گنگوہی صاحب نے کس مردے کو زندہ کیا اور کس زندہ کو مرنے نہ دیا، نیز وہ خود کیوں مرگئے؟کیا یہ غلو نہیں؟

کسی کی اتباع پر نجات موقوف ہو، یہ صرف نبی کا منصب ہے۔بانیٔ دیوبند نے تو وحی کی کیفیت طاری ہونے کا دعویٰ کیا تھا، رشید گنگوہی نے یہ پیغمبرانہ دعویٰ کیا، ’’سن لو! حق وہی ہے جو رشید احمد کی زبان سے نکلتا ہے اور بقسم کہتا ہوں کہ میں کچھ نہیں ہوں مگر اِس زمانہ میں ہدایت ونجات موقوف ہے میرے اتباع پر۔‘‘

دیوبندی گروہ کے تیسرے مذہبی پیشوا مولوی اشرف علی تھانوی ہیں۔ان کے متعلق علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں، ’’آپ کے معتقدین آپ کو ’’مجدد مبعوث‘‘ تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ منصب بھی ختم نبوت ہی کا ایک ضمیمہ ہے یعنی مجدد مبعوث جس منصب پر فائز ہیں وہ نبوت سے کوئی علیحدہ چیز نہیں ہے۔ ثبوت میں تھانوی صاحب کے ایک پُرجوش معتقد کی یہ تحریر پڑھیے۔

’’مجدد بھی نبی کی طرح مبعوث ہوتا ہے یعنی تجدیدِ دین کی خدمت کے لئے ہی پیدا فرمایا جاتا ہے، لہٰذا ہر ولی، بزرگ یا محدث و فقیہ مجدد نہیں ہوتا۔‘‘

ظاہر ہے کہ جب مجدد بھی نبی کی طرح مبعوث ہوتا ہے تو یہ منصب سب کو کیسے مل سکتا ہے۔ دوسری جگہ اس سے زیادہ واضح لفظوں میں منصبِ نبوت کا ضمیمہ ثابت کیا گیا ہے۔

مولوی عبدالباری دیوبندی لکھتے ہیں، ’’غرض بعثتِ مجددین  ختم  نبوت کی کتاب کا ایسا ناگزیر ضمیمہ ہے جس کے بغیر اس کتاب کا ختم سمجھنا ہی دشوار ہے اور نہ عقیدۂ ختم نبوت کی اس دشواری کو آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے کہ جب معمولی عقائد واعمال ہی میں اختلال نہیں بلکہ کفر و شرک تک کے دینی مفاسد ہر زمانے میں نئے نئے پیدا ہوتے رہتے ہیں تو پھر آخر نبوت کی ضرورت کیسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔‘‘

دیکھ رہے ہیں آپ! بالکل وہی اندازِ استدلال ہے جو قادیانی مذہب کا ہے۔ یعنی عقل وضرورت کا تقاضا ہے کہ نبوت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ آخر غلام احمد قادیانی کا اس سے زیادہ اور کیا کفر ہے کہ اس نے بھی عقل وضرورت ہی کا یہ تقاضا پورا کیا تھا۔ بہرحال آگے بڑھیے۔ تھانوی صاحب کے حق میں ان کے منصب کی دلیل کے لئے زمین یوں ہموار کرتے ہیں، ’’حضرات انبیاء علیہم السلام کو ان کی نبوت کے لئے دلائل وآیات ہمیشہ ان کے مذاق اور مطالبات کے مناسب عطا ہوتے رہے۔ حضرت خاتم النبیین کو سب سے بڑا معجزہ ذالک الکتاب اور اس کی آیات وتعلیمات کا عطا فرمایا گیا۔‘‘

اتنی تمہید کے بعد اب اصل بات نوکِ قلم پر آتی ہے۔ تھانوی صاحب کے لئے مجوزہ منصب کی دلیل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ’’آج جو شخص بھی دینِ اسلام کے چہرے کو پورے جمال وکمال کے ساتھ بالکل صاف وبے غبار جامع وکامل صورت میں از سرِ نو تجدید یافتہ اور تروتازہ دیکھنا چاہتا ہے وہ عہدِ حاضر کے جامع المجددین (مولانا تھانوی) کی کتابی آیتوں کی طرف علماً وعملاً رجوع کر کے خود مشاہدہ کر سکتا ہے۔‘‘

وہ پیغمبر ہی کیا جس کے پاس کتابی آیات نہ ہوں، اسلام کی تجدید ہی کے نام پر مرزا غلام احمد نے بھی اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور یہاں بھی تجدید ہی سے ابتدا کی جا رہی ہے۔ پیغمبر اپنے پیچھے اپنی امت کے لئے اپنی زندگی کا ایک اسوہ اور نمونہ بھی چھوڑتا ہے۔ تھانوی صاحب نے بھی اپنے بعد ایک نمونہ چھوڑا ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up