Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 104 of 115

ذرا ان الفاظ کے تیور ملاحظہ ہوں:

’’جس طرح انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کے لئے ’’احسن عمل‘‘ اکمل اسوہ ہوتے ہیں اسی طرح نبی الانبیاء کے دین کے تھانوی مجدد کی زندگی تجدیدی درجے میں امت محمدیہ کے لئے اسلام کی عملی تعلیمات کا ہر شعبہ میں کامل وجامع نمونہ تھی۔‘‘ معاذ اللہ! امتِ محمدیہ کے لئے اب محمد رسول اللّٰہ کی زندگی کا نمونہ کافی نہیں رہا۔ نیا پیغمبر، نئی امت، نیا نمونہ۔ یہاں تک تو ساری جدوجہد منصبِ نبوت کے گرد و پیش تھی، اب کہانی اس مقام پر پہنچ رہی ہے جسے نقطۂ عروج کہنا چاہیے۔ یہاں پیغمبری کے منصب کا اظہار درجۂ ابہام میں نہیں ہے، بالکل صراحت کے اجالے میں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کلمہ دوسروں نے پڑھا ، تصدیق خود کی ہے۔

مختصر واقعہ یہ ہے کہ مولوی اشرف علی تھانوی کا ایک مرید خط میں لکھتا ہے کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں کلمہ پڑھتا ہوں تو ’’لاالہ الا اللّٰہ‘‘ کے بعد’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ کی بجائے ’’اشرف علی رسول اللّٰہ‘‘ منہ سے نکل جاتا ہے۔پھر میں بیدار ہوگیا۔ ’’ پھر دوسری کروٹ لیٹ کر کلمہ شریف کی غلطی کے تدارک میں رسول اللّٰہ پر درود شریف پڑھتا ہوں۔ لیکن پھر بھی کہتا ہوں، اللہم صل علیٰ سیدنا ونبینا ومولانا اشرف علی۔حالانکہ اب بیدار ہوں، خواب نہیں لیکن بے اختیار ہوں، مجبور ہوں، زبان اپنے قابو میں نہیں۔‘‘

’’وہ زبان بھی کتنی شاطر اور عیار ہے جو اپنے مرشد کو کلمۂ تنقیص کہنے کے لئے تو بےقابو نہیں ہوتی لیکن اسے رسول ونبی بنانے کے لئے بے قابو ہوجاتی ہے۔ یہ عذرِ لنگ اگر قبول کر لیا جائے تو دنیا سے بالکل ہی ایمان اٹھ جائے۔ بڑے سے بڑا دشنام طراز بھی یہ کہہ کر نکل جائے کہ کیا کروں، بے اختیار ہوں، مجبور ہوں، زبان اپنے قابو میں نہیں ہے۔

اور غضب یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ’’پیرمغاں‘‘ اس صریح کلمۂ کفر پر اپنے مرید کو سرزنش فرمائیں ، یہ حوصلہ افزا جواب لکھ بھیجتے ہیں، ’’اس واقعہ میں تسلی تھی کہ جس کی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ بعونہٖ تعالیٰ متبع سنت ہے۔‘‘

مرزا قادیانی نے بھی نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے اپنے’’ متبع سنت‘‘ ہونے ہی کو آڑ بنایا تھا، یہی راستہ تھانوی صاحب نے بھی پسند کیااورصریح کفر کی تائید کی۔

ایک دیوبندی عالم احمد سعید اکبرآبادی کے بقول: ’’ظاہر ہے کہ اس کا صاف اور سیدھا جواب یہ تھا کہ یہ کلمۂ کفر ہے، شیطان کا فریب اور نفس کا دھوکہ ہے۔ تم فوراً توبہ کرو اور استغفار پڑھو۔ لیکن مولانا تھانوی صرف یہ فرما کر بات آئی گئی کر دیتے ہیں کہ تم کو مجھ سے محبت ہے اور یہ سب کچھ اسی کا نتیجہ وثمرہ ہے۔‘‘

رئیس التحریرعلامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ اس گفتگو کا خلاصہ یوں لکھتے ہیں کہ: ’’بالفرض اگر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ ان عبارتوں کا مطلب کچھ اور بھی ہے، جب بھی کم از کم یہ سوال اپنی جگہ پر باقی ہے کہ اس طرح کی عبارت ایک آدھ ہوتی تو ہم اپنے آپ کو سمجھا لیتے کہ یہ قلم کی لغزش ہے لیکن مولوی قاسم نانوتوی سے لیکر مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی اشرف علی تھانوی تک کے حق میں مشترک طور پر قلم کی اتنی لغزشوں کا تصور ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ہی مکتبۂ فکر کے تین پیشواؤں کے بارے میں لکھنے اور سوچنے کا ایک ہی انداز واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ: دراصل یہ قلم کا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ پیغمبرانہ منصب کی طرف ایک سوچی سمجھی اور منظم پیش قدمی ہے۔ ورنہ اس کیوں کا کیا جواب ہے کہ: ایک ہی الزام بھرپور یکسانیت کے ساتھ ایک ہی گروہ کے تین بڑوں میں مشترک کیوں ہے؟

Share:
keyboard_arrow_up