Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 105 of 115

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!‘‘

منکرینِ ختم نبوت کی قطار میں نانوتوی کے پوتے قاری محمدطیب مہتمم دارالعلوم دیوبند بھی موجود ہیں۔جنہوں نے پہلے مرزائی فکر کا دفاع کرتے ہوئے لکھا، ’’ختم نبوت کا یہ معنی لینا کہ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا، یہ دنیا کو دھوکہ دینا ہے۔

ختم نبوت کے معنی قطع نبوت کے نہیں بلکہ کمالِ نبوت اور تکمیل نبوت کے ہیں۔ آپ خاتم الانبیاء ہیں یعنی آپ پر مراتبِ نبوت ختم ہوگئے۔‘‘

حالانکہ قطعِ نبوت کے الفاظ تو خود رسول اللّٰہ کے ہیں۔(دیکھیے حدیث۱۰) قاری طیب نے پہلے تو نبوت منقطع ہونے کا انکار کیا پھر مزید ستم یہ کیا کہ لکھا، ’’حضور کی شان محض نبوت ہی نہیں نکلتی بلکہ نبوت بخش بھی نکلتی ہے کہ جو بھی نبوت کی استعداد پایا ہوا فرد آپ کے سامنے آیا، نبی ہو گیا۔‘‘

کوئی دیوبندی صاحب یہ بتائیں کہ کون سا فرد سامنے آیا اور نبی ہوگیا؟ دیوبندی فکر دراصل یہی ہے کہ حضور کی تعریف کی آڑ میں حضور کے کمالات کا انکار کیا جائے۔نبوت بخش والا فلسفہ مرزا قادیانی کے لفظوں میں یوں ہے، ’’ آپ کی پیروی کمالاتِ نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوتِ قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔‘‘

مہتمم دارالعلوم دیوبند کے مذکورہ فلسفہ پر مولوی عامر عثمانی لکھتے ہیں، ’’حضرت مہتمم صاحب نے حضور کو نبوت بخش کہا تھا، مرزا صاحب نبی تراش کہہ رہے ہیں، حرفوں کا فرق ہے معنی کا نہیں۔‘‘

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ قاری محمد طیب کو دارالعلوم سے نکالنے کی وجہ حافظ سید محمد اکبر شاہ بخاری نے دیگر علماء دیوبند کے حوالے سے یہ لکھی ہے، ’’مہتمم صاحب کو دارالعلوم سے نکالنا دینی فرض ہوگیا تھا چونکہ انہوں نے دعوی ٔ نبوت کیا تھا‘‘۔

آج تحفظِ ختمِ نبوت کے نام پر اسی مکتبۂ فکر کے لوگ خود کو بڑھا چڑھا کے پیش کرتے ہیں۔سبب یہ ہے کہ ان کے بڑوں نے ’’ختم نبوت‘‘کے عقیدے پر نقب لگائی ہے اور مرزا قادیانی کے لئے راستہ ہموار کیا ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ قائدِ اہلسنت مولانا شاہ احمد نورانی کی قادیانیوں کے خلاف پیش کردہ قراردادپر ۳۷ ارکانِ پارلیمان نے دستخط کئے جس پر دو مشہور دیوبندی علماء مولوی عبدالحکیم اور مولوی غلام غوث ہزاروی نے دستخط نہیں کئے، حالانکہ اُس وقت وہ اسمبلی میں موجود تھے۔ اب جبکہ قادیانیوں کو کافر اور اقلیت قرار دیا جا چکا، یہ لوگ اپنے اکابر کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے قادیانیوں کے خلاف خوب شوروغوغا کرتے ہیں لیکن ان کا باطن ، عظمتِ مصطفیٰ کو ماننے سے آج بھی انکاری ہے۔

مرزاقادیانی اور علماءِ دیوبند: مرزا قادیانی کی کتاب براہینِ احمدیہ کی اشاعت کے ساتھ ہی علمائے اہلسنت نے مرزا کے خلافِ شرع نظریات کا رَد شروع کردیا تھا جس کا ذکرپہلے کیا جا چکا، جبکہ علمائےِ دیوبنداور غیر مقلد علماء کی طرف سے مرزا کی تعریف میں بہت کچھ لکھا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دیوبند کے مفتی ٔ اعظم مولوی رشید احمد گنگوہی جنہوں نے میلاد شریف کو حرام اور نبی کریم کے لئے علمِ غیب ماننامتعدد فتاویٰ میں کفرو شرک قرار دیا، ان کے فتاویٰ میں مرزا قادیانی کے متعلق کفر کا کوئی فتویٰ موجود نہیں۔ اس کے برعکس فتاویٰ قادریہ جو کہ علماءِ لدھیانہ کی تصنیف ہے اور ۱۹۰۱ء میں طبع ہوئی، اس میں علماءِ لدھیانہ اور رشید گنگوہی کی تحریری گفتگو موجود ہے۔ اس کے صفحہ ۳ پر علماءِ لدھیانہ نے لکھا کہ ہم نے مرزا کی ’’براہین میں کلماتِ کفریہ انبار در انبار پائے‘‘۔ جس کی بناء پر انہوں نے مرزا کی تکفیر کی۔مگر گنگوہی صاحب نے اس کی مخالفت کی اور مرزا کے کفریہ کلمات کی تاویل کرنے پر اصرار کیا۔ 

Share:
keyboard_arrow_up