Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 106 of 115

چند اقوال ملاحظہ ہوں:

’’اگر بعض اقوال میں در بادی الرائے خدشہ ہوتا ہے مگر تھوڑی سی تاویل سے اس کی تصحیح ممکن ہے لہٰذا آپ جیسے اہلِ علم سے بہت تعجب ہوا کہ آپ نے ایسے امر تبادر معانی کو دیکھ کر تکفیر وارتداد کا حکم فرمایا۔ اگر تاویلِ قلیل فرما کر اس کو خارج اسلام سے نہ کرتے تو کیا حرج تھا‘‘۔ ’’اس تاویل میں کیا حرج ہے، دوسرے معنی لے کر کیوں تکفیر کی جائے‘‘۔ ’’یہ بندہ جیسا اس بزرگ کو کافر فاسق نہیں کہتا، ان کو مجدد ولی بھی نہیں کہہ سکتا، صالح مسلمان سمجھتا ہوں‘‘۔

جن مفتی ٔ اعظم دیوبند کو قرآن وحدیث کے واضح دلائل وبراہین سے نبی کریم کے لئے علمِ غیب عطاہونا اور آپ کا شاھد وشھید ہونا سمجھ نہ آیا، اور انہوں نے ساری امت کو بیک جنشِ قلم، کافر ومشرک بنا ڈالا، تعجب ہے کہ انہیں کس قدر بےقراری ہے کہ کاش کوئی بھی تاویل کر لی جائے مگر انگریز ایجنٹ مرزا قادیانی کو کافر نہ کہا جائے۔ علماءِ لدھیانہ کے مسلسل اصرار پر دارالعلوم دیوبند کے صدرمدرس مولوی یعقوب نانوتوی نے مرزا قادیانی کے متعلق لکھا، ’’یہ شخص میری دانست میں غیر مقلد معلوم ہوتا ہے اور اس کے الہامات اولیاء اللّٰہ کے الہامات سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے اور نیز اس شخص نے کسی اہل اللّٰہ کی صحبت میں رہ کر فیضِ باطنی حاصل نہیں کیا‘‘۔

تعجب ہے کہ مرزا کذاب کے کفریہ عقائد دیگر علماء کو تو سمجھ آگئے اور انہوں نے مرزا کی تکفیر کی مگر علمائے دیوبند کو سمجھ نہیں آئے یا انہوں نے قصداً نہیں سمجھے۔ دیوبندی حضرات، تھانوی صاحب کے متعلق کیا کہیں گے جو مرزا قادیانی کے جھوٹے دعویٔ نبوت کے چھ سال بعد ۱۹۰۷ء تک بھی یہی لکھ رہے تھے، ’’خاص مرزا کی نسبت مجھ کو پوری تحقیق نہیں کہ کوئی وجہ کفر کی ہے یا نہیں‘‘۔

کیا علمائے حق ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں مرزا کے دعویٔ مسیح موعود کے سولہ سال بعداور دعویٔ نبوت کے چھ سال بعدتک بھی مرزا کے کفر کی کوئی وجہ معلوم ہی نہیں ہو سکی۔تھانوی صاحب کے مرزا دجال سے دلی تعلق کو ان کے خلیفہ مولوی عبدالماجد دریابادی نے یوں بیان کیا ہے،

’’غالباً ۱۹۳۰ء کا واقعہ ہے کہ نماز چاشت کے وقت حکیم الامت تھانوی کی محفل خصوصی میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ ذکر مرزائے قادیان کا تھا۔ ایک صاحب بڑے جوش سے بولے، ’’حضرت ان لوگوں کا دین کوئی دین ہے نہ خدا کو مانیں نہ رسول کو‘‘۔ حضرت (تھانوی) نے معاً لہجہ بدل کر فرمایا،یہ زیادتی ہے۔ توحید میں ہمارا اُن کا کوئی اختلاف نہیں، اختلاف رسالت میں ہے اور اس کے بھی ایک باب میں، یعنی عقیدہ ختمِ رسالت میں۔ بات کو بات کی جگہ رکھنا چاہیے۔ جو شخص ایک جرم کا مجرم ہے یہ تو ضروری نہیں کہ دوسرے جرائم کا بھی ہو‘‘۔

’’سچی باتیں‘‘ مصنفہ عبدالماجد دریا آبادی ۲۱۳ مرتبہ حکیم بلال احمد اکبر آبادی شائع کردہ نفیس اکیڈمی کراچی‘‘۔

تھانوی صاحب کی تعلیم وتربیت ہی کا اثر تھا کہ ’’مولانا موصوف (یعنی دریابادی) اپنے اخبار صدق جدید مؤرخہ ۲۲ دسمبر ۱۹۶۱ء میں لکھتے ہیں، ’’مبارک ہے وہ دین کا خادم جو تبلیغ واشاعتِ قرآن کے جرم میں قادیانی یا احمدی قرار پائے، اور قابلِ رشک ہے وہ احمدی یا قادیانی جن کا تمغۂ امتیاز ہی خدمتِ قرآن یا قرآنی ترجموں کی طبع واشاعت کو سمجھ لیا جائے‘‘۔

اس کی تصدیق مفتی تقی عثمانی دیوبندی نے بھی کی ہے اور لکھا ہے کہ: ’’قادیانیت کے مسئلے میں ان (دریابادی) کا نرم گوشہ پوری امت کے خلاف تھا اور بلاشبہ یہ ان کی سنگین ترین غلطی تھی‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up