۱۳۲۶ ھ میں مرزا واصلِ جہنم ہوگیااور اس کے خلاف علماء اہلسنت کے کفر کے فتاویٰ شائع ہوچکے یعنی مرزا کذاب کے مرنے کے کئی سال بعد دارالعلوم دیوبند سے یہ فتویٰ پوچھا گیا، ’’مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مسیحیت اور مہدیت سے واقف ہوکر بھی کوئی شخص مرزا کو مسلمان سمجھتا ہے تو کیا وہ شخص مومن کہلا سکتا ہے؟‘‘
الجواب: مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد وخیالاتِ باطلہ اس حد تک پہنچے ہوئے ہیں کہ ان سے واقف ہوکر کوئی مسلمان مرزا کو مسلمان نہیں کہہ سکتا البتہ جس کو علم اس کے عقائدِ باطلہ کا نہ ہو یا تاویل کرے تو ممکن ہے۔ بہرحال بعد علم اس کے عقائدِ باطلہ مرزا مذکور کو کافر کہنا اس کا ضروری ہے۔ اس کو اور اس کے اتباع کو جن کا عقیدہ مثل اس کے ہو، مسلمان نہ کہا جاوے۔ وہ مسلمان نہ تھا جیسا کہ اس کی کتب سے ظاہرہے باقی یہ کہ کوئی شخص بسبب کسی شبہ اور تاویل کے کافر نہ کہے، اس کو بھی کافرنہ کہا جاوے کہ موقع تاویل میں احتیاط عدم تکفیر میں ہے‘‘۔
مفتی عزیز الرحمٰن دیوبندی نے پہلے لکھا کہ مرزا کے عقائدِ باطلہ کا علم ہوجانے پر اسے کافر کہنا ضروری ہے، پھر ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا کہ شبہ اور تاویل کی وجہ سے جو اسے کافر نہ کہے ، وہ کافر نہیں۔ دراصل گنگوہی صاحب اور دیگراکابر کو بچانا ضروری تھا۔
قادیانیوں کا اعتراف: قادیانی فرقے کے ایک ذمہ دار اہلِ قلم ابوالعطا جالندھری ’’افاداتِ قاسمیہ‘‘ نامی کتاب میں جو ربوہ پاکستان سے شائع ہوئی ہے، دیوبند کے قاسم نانوتوی اور قادیان کے مسیح موعود (مرزا غلام احمد)کے درمیان ایک الہامی رشتہ اور معنوی ارتباط کے وجود پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں،
’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ چونکہ چودھویں صدی کے سر پر آنے والا مجدد امام مہدی اور مسیح موعود بھی تھا اور اسے ’’امتی نبوت‘‘ کے مقام سے سرفراز کیا جانے والا تھا، اس لئے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی خاص مصلحت سے حضرت مولوی محمد قاسم صاحب کو خاتمیتِ محمد کے اصل مفہوم کی طرف وضاحت کے لئے راہنمائی فرمائی اور آپ نے اپنی کتابوں اور اپنے بیانات میں آنحضرت کے خاتم النبیین ہونے کی نہایت دلکش تشریح فرمائی۔ بلاشبہ آپ کی کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ اس موضوع پر خاص اہمیت رکھتی ہے‘‘۔
بقول علامہ ارشد القادری،’’قادیانی مصنف کی یہ عبارت محتاجِ تبصرہ نہیں ہے۔ بیچ چوراہے پر اس نے اہلِ دیوبند کے مصنوعی اسلام کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اب اس سے انکار مشکل ہے کہ دیوبندی حضرات قادیانی مذہب کے بانی نہیں ہیں‘‘۔
مرزا قادیانی اور اہلِ حدیث: مرزا قادیانی ابتدا میں غیرمقلد یعنی اہلحدیث تھا۔ اس کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے،’’حضرت مسیح موعود بڑی سختی سے اس بات پر زور دیتے تھے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے‘‘۔
’’رفع یدین کرتے تھے تہجد میں دورکعت وتر جدا پڑھتے اور پھر سلام پھیر کر ایک رکعت الگ پڑھتے تھے‘‘۔
’’عقائد وتعامل کے لحاظ سے دیکھیں تو آپ کا طریق حنفیوں کی نسبت اہل حدیث سے زیادہ ملتا جلتا ہے‘‘۔
جماعت اہلحدیث کے سربراہ مولوی محمد حسین بٹالوی مرزا قادیانی کے بچپن کے دوست تھے اور ہم سبق بھی۔یہ بٹالوی صاحب وہی ہیں جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کو حرام کہا۔
بٹالوی صاحب ہی نے کوشش کرکے ۱۹ جنوری ۱۸۸۷ء کوانگریز حکومت سے وہابی فرقے کانام ’’اہلِ حدیث‘‘ منظور کرایا۔اپنی درخواست میں انہوں نے لکھا، ’’یہ فرقہ گورنمنٹ کا دلی خیر خواہ، گورنمنٹ سے اس درخواست کرنے کی جرأت کرتا ہے کہ گورنمنٹ اپنی خیرخواہ رعایا کی نسبت ایسے لفظ کا استعمال قطعاً ترک کرے‘‘۔

