Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 108 of 115

وہابی نام کی تبدیلی کا اہم فائدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ’’ایک عمدہ نتیجہ یہ ہے کہ اس رسالہ (اشاعۃ السنۃ) نے گروہِ اہل حدیث کی وفاداری گورنمنٹ پر ثابت کردی، اور ان کے حق میں لفظ ’’وہابی‘‘ کا (جو ناواقفوں کے خیال میں ان کی وفاداری میں شبہ انداز تھا) استعمال حکماً موقوف کرادیا‘‘۔

بٹالوی صاحب جنگِ آزادی کے مجاہدین کے متعلق اپنی کتاب میں لکھتے ہیں، ’’مفسدہ ۱۸۵۷ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے، وہ سخت گناہگار اور بحکمِ قرآن وحدیث مفسد وباغی، بدکردار تھے‘‘۔

غیر مقلد عالم مسعود عالم ندوی ان کے متعلق لکھتے ہیں، ’’مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کی منسوخی پر ایک رسالہ (الاقتصاد فی مسائل الجہاد) فارسی زبان میں تصنیف فرمایا تھا اور مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے بھی شائع کرائے تھے۔ معتبر اور ثقہ راویوں کا بیان ہے کہ اس کے معاوضے میں سرکار انگریزی سے انہیں ’’جاگیر‘‘ بھی ملی تھی۔ اس رسالے کا پہلا حصہ ہمارے پیشِ نظر ہے، پوری کتاب تحریف وتدلیس کا عجیب وغریب نمونہ ہے‘‘۔

انہوں نے خود بھی اقرار کیا کہ ’’اراضی جو خدا تعالیٰ نے گورنمنٹ سے مجھے دلائی ہے، چار مربع ہے‘‘۔

غیر مقلدین بھی مرزا کی طرح ملکہ برطانیہ کی چاپلوسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ’’جب ایسی شفیق ملکہ پرور دگار  نے ہماری سلطنت کے واسطے بنائی ہے تو بتائیے کہ عقلاً وعرفاً وشرعاً کیونکر ہم اس کی خوشی کو اپنی خوشی نہ سمجھیں؟ اس کے رنج کو اپنا رنج تصور نہ کریں، اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہم پر نفرین ہے‘‘۔

بٹالوی صاحب نے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے دستِ راست مولوی نور الدین بھیروی اور مولوی احسن امروہوی اہل حدیث تھے۔

اہلحدیث کے شیخ الاسلام مولوی ثناء اللّٰہ امرتسری جو قادیانیوں سے مناظرہ کرتے رہے، ان کے پیچھے نماز جائز سمجھتے تھے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے سیکریٹری مولوی عبدالعزیز انہیں مخاطب کر تے ہوئے لکھتے ہیں، ’’آپ نے لاہوری مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھی، آپ مرزائی کیوں نہیں؟ آپ نے فتویٰ دیا کہ مرزائیوں کے پیچھے نماز جائز ہے، اس سے آپ خود کیوں مرزائی نہیں؟ آپ نے مرزائیوں کی عدالت میں مرزائی وکیل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مرزائیوں کو مسلمان مانا، اس سے آپ خود مرزائی کیوں نہیں ہوئے؟‘‘۔

تاریخی شواہد کی بناء پراس حقیقت کا انکار ممکن نہیں کہ انگریز نے ہندوستان میں اہلسنت مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو تقسیم کرنے کے لئے دیوبندی، وہابی اور قادیانی فرقے پروان چڑھائے تاکہ مسلمانوں کو عشقِ رسول کی دولت سے محروم کرکے عقیدۂ رسالت ہی کا منکر بنا دیا جائے۔ برطانوی حکومت نے اپنی بے مثال وفاداری پر غیر مقلد اہلحدیث فرقے کے کئی علماء کو شمس العلماء یا خان بہادر کے خطابات سے نوازا جن میں سے آٹھ افراد کی فہرست انہی کی کتاب ’’الدرالمنثور ‘‘کے حوالے سے علامہ شرف قادری علیہ الرحمہ کی کتاب’’ شیشے کے گھر‘‘ کے آخری صفحہ پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

باب دہم

ختم نبوت اور ’’تحذیر الناس‘‘: کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ کا پس منظر یہ ہے کہ ایک ضعیف اور شاذ روایت کی بنیاد پر بعض لوگوں نے کہا کہ زمینیں سات ہیں اور اس زمین کے علاوہ دیگر چھ زمینوں پر بھی دیگر انبیاء کرام کی طرح نبی کریم کی ایک ایک مثال موجود ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے بانی مولوی قاسم نانوتوی نے ’’تحذیر الناس‘‘ لکھ کر قرآن و حدیث کے برخلاف اس ضعیف روایت کی تصدیق کر دی۔ مزید ستم یہ کہ خاتم النبیین کے معنی ’’آخری نبی‘‘ سمجھنا عوام کا خیال قرار دیا۔

Share:
keyboard_arrow_up