Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 109 of 115

مولوی قاسم نانوتوی نے اس کتاب کے صفحہ ۳ پر لکھا، ’’اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔ سو عوام کے خیال میں تو رسول اللّٰہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں، مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر میں بالذات کچھ فضیلت نہیں، پھر مقامِ مدح میں {وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} فرمانا اس صورت میں کیونکرصحیح ہو سکتا ہے؟ہاں! اگر اس وصف کو اوصافِ مدح میں سے نہ کہیے اور اس مقام کو مقامِ مدح نہ قرار دیجیے تو البتہ خاتمیت باعتبارِ تاخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے‘‘۔

مزید لکھا،’’مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی کہ اس میں ایک تو خدا کی جانب زیاد ہ گوئی کا وہم ہے آخر اس وصف میں اور قدو قامت و شکل و رنگ و حسب نسب و سکونت وغیرہ اوصاف میں جن کو نبوت یا اور فضائل میں کچھ دخل نہیں کیا فرق ہے ؟ جو اس کو ذکرکیا اوروں کا ذکر نہ کیا دوسرے رسول اللہ صلعم کی جانب نقصان قدر کا احتمال ۔ کیونکہ اہل کمال کے کمالا ت ذکر کیا کرتے ہیں اور ایسے ویسے لوگوں کے اس قسم کے احوال بیان کیا کرتے ہیں ۔ اعتبار نہ ہوتا تو تاریخوں کو دیکھ لیجئے

باقی یہ احتمال کہ یہ دین آخری دین تھا۔ اس لئے سدباب اتباع مدعیان نبوت کیا ہے جو کل کو جھوٹے دعوے کرکے خلائق کو گمراہ کریں گے۔ البتہ فی حدذاتہ قابل لحاظ ہے پر جملہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم اور جملہ ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین میں کیا تناسب تھا جو ایک کو دوسرے پر عطف کیا اور ایک کو مستدرک منہ اور دوسرے کو استدراک قرار دیا اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی بے ربطی بے ارتباطی خدا کے کلام معجز نظام میں متصور نہیں اگر سدباب مذکور منظور ہی تھا تو اس کے لئے بیسیوں موقعے تھے بلکہ بنائے خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تاخر زمانی اور سد باب مذکورہ خود بخود لازم آجاتا ہے ‘‘۔

نانوتوی صاحب نے اس عبارت میں بڑے شد و مد ، زور و شور سے یہ ثابت کیا ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے نہیں ۔ اور نہ یہ معنی کسی طرح بن سکتے ہیں ۔ خاتم النبین ہونے کو انہوں نے سترہ طریقوں سے باطل کیا ہے ۔

1…خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہونا ، نا سمجھ عوام کا خیال ہے ۔

2…اسے خیال بتایا، عقیدہ نہیں ۔ خیال کے معنی وہم ، گمان ، رائے ہیں ۔

3…آخری نبی ہونے کو مقام مدح میں یعنی تعریف کے موقع پر ذکر کرنا صحیح نہیں ۔ اور یہ آیت کریمہ مقام مدح میں ہے ۔ اس لئے اس آیت میں خاتم النبیین آخری نبی کے معنی میں نہیں ۔ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہوا کہ آخر الانبیاء ہونے میں کوئی مدح نہیں ، کچھ فضیلت نہیں، نہ بالذات نہ بالعرض۔

4 …اس آیت کو مدح نہ مانیں اور خاتم النبیین کو اوصاف مدح میں نہ مانیں تو خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہونا درست ہوسکتا ہے۔مگر چونکہ یہ آیت مقام مدح ہے اور خاتم النبیین وصف مدح ہے ۔ اس لئے اس آیت میں خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہونا درست نہیں۔

5 …اگر خاتم النبیین کے معنی آخری نبی مراد لیں گے تو خدا کے بیہودہ گو ، لغو گو ہونے کا وہم ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہو اکہ آخری نبی ہونا بیہودہ ، لغو وصف ہے جس میں کچھ بھی فضیلت نہیں نہ بالذات نہ بالعرض ۔

6…آخری نبی ہونا قد و قامت وغیرہ ایسے اوصاف میں سے ہے جنہیں فضائل میں کچھ دخل نہیں ۔اس کا صاف صاف بالکل واضح غیر مبہم یہ معنی ہو اکہ آخر الانبیاء ہونے میں کچھ فضیلت نہیں ۔ نہ بالذات نہ بالعرض ۔

Share:
keyboard_arrow_up