7 …اگر حضور اقدس کو آخر ی نبی مانیں گے تو رسول اللّٰہ کے نقصان قدر کا احتمال لازم آئے گا یعنی یہ کہ حضور اقدس کا مرتبہ کم ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آخری نبی ہونا ناقص وصف ہے جس میں کچھ فضیلت نہیں ، نہ بالذات نہ بالعرض ۔
8…آخری نبی ہونا ایسے ویسے یعنی معمولی درجے کے لوگوں کے اوصاف کی طرح ہے اس کا بھی حاصل یہی ہے کہ آخری نبی ہونے میں کچھ فضیلت نہیں۔ نہ بالذات نہ بالعرض ۔
9…اگر خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین لیں گے تو اس آیت کے پہلے والے جملے اور اس میں تناسب نہ رہےگا۔
10…ایک کا دوسرے پر عطف درست نہ ہوگا۔
11 …ایک کو مستدرک منہ اور دوسرے کو مستدرک بنانا صحیح ہوگا۔
12…اللّٰہ کے کلام معجز نظام میں بے ربطی بے ارتباطی لازم آئے گی۔
13…نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے اتباع کو روکنے کے لئے اس آیت میں خاتم النبیین نہیں فرمایا گیا ۔ اگر یہ روکنا مقصود ہوتا تو ضرور خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہوتے مگر یہ روکنا اس سے مقصود نہیں ۔ اس لئے اس آیت میں خاتم النبیین کے آخر النبیین معنی نہیں ۔
14…اس کا یہ موقع نہیں اس کے بیسیوں اور مواقع تھے ۔
15…آخری نبی ہونے پر بناءِ خاتمیت نہیں ، کسی اور بات پر ہے ۔ ’’خاتم النبیین کے معنی آخری نبی نہیں‘‘ اس پر نانو توی صاحب نے ابتداء ہی میں اکٹھے مسلسل پندرہ دلائل قائم کردیئے ہیں مگر ان کا قلم اسی پر قناعت نہیں کرتا بلکہ بڑھ کر او ر جولانی دکھا تا ہے ۔
صفحہ ۴ پر ہے : ’’سو اسی طور رسول اللّٰہ کی خاتمیت کو تصور فرمائیے یعنی آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سو ا آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالعرض ۔ اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے ۔پر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں‘‘۔ اب بات بالکل صاف ہوگئی ، اور اس کا بھی فیصلہ ہوگیا کہ جب خاتم النبیین کے معنی آخری نبی نہیں، تو آخر اس کے کیا معنی ہیں؟ اور جب یہ بناء ِخاتمیت نہیں تو اور کیا ہے ؟
نانوتوی صاحب نے اپنی اعلیٰ فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے وہ بھی بتادیا کہ خاتم النبیین کے معنی نبی بالذات کے ہیں اور بناءِ خاتمیت بالذا ت نبی ہونے پر ہے ۔
16…نیز صفحہ ۱۴ پر رقمطراز ہیں : ’’غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جاوے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گذشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا۔ بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہوجب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے ‘‘۔
17 … صفحہ ۲۸ پر لکھتے ہیں۔ ’’اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیتِ محمدی میں کچھ فرق نہ آئےگا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے‘‘۔
یہ کل سترہ وجوہ ہوئے جن سے نانوتوی صاحب نے اپنایہ عقیدہ ثابت کیا ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین نہیں بلکہ نبی بالذات کے ہیں نیز یہ بھی واضح کردیا کہ نبی بالذات ہونے کوآخری نبی ہونا کسی طرح لازم بھی نہیں۔
اولاً: نانوتوی صاحب اگر نبی بالذات ہونے کو آخری نبی ہونا لازم مانتے تو صفحہ نمبر ۱۴ پر یہ نہ لکھتے، ’’بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہوجب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے‘‘۔
ثانیاً: نیز صفحہ نمبر۲۸ پر یہ نہ لکھتے، ’’بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہوتوبھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں، یافرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے‘‘۔

