Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 111 of 115

ظاہر ہے کہ اگر واقعی خاتمیت ذاتی کو زمانی لازم ہوتی تو حضور کے زمانے میں کسی نبی کے ہونے سے آپ کا خاتم ہونا ختم ہوجاتا۔ اور آپ کے بعد کسی نبی کے ہونے سے خاتمیتِ محمدی رخصت ہوجاتی۔ اس لئے کہ ہر ادنیٰ سی عقل رکھنے والے پر یہ بات واضح ہے کہ حضور اقدس کا آخری نبی ہونا اس بات کے منافی ہے کہ حضور کے عہدِ مبارک یا بعد میں کوئی نیا نبی کہیں بھی پیدا ہو۔ اور نانوتوی صاحب جب یہ تصریح کررہے ہیں کہ آپ کے زمانے میں یا آپ کے بعد کسی جدید نبی کے ہونے کے باوجود آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہے گا۔ آپ کی خاتمیت میں کچھ فرق نہیں آئے گا، تو ثابت ہوا کہ وہ نبی بالذات ہونے کو آخری نبی ہونا لازم نہیں مانتے۔ اس لئے کہ جو چیز لازم کے منافی ہے وہ ملزوم کے بھی ضرور منافی ہے۔ تو جو خاتمیت زمانی کے منافی وہ خاتمیت ذاتی کے بھی ضرور منافی ہے۔

اور ظاہر ہے کہ حضور اقدس کے زمانے میں یا بعد میں کسی نبی کے ہونے سے خاتمیت زمانی ضرور ختم ہوجائے گی۔ اور جب یہ ختم تو اس کا ملزوم خاتمیت ذاتی بھی ختم۔ تو جب صورت مذکورہ میں خاتمیت ذاتی اور زمانی دونوں ختم تو یہ کہنا باطل ہوجاتا ہے کہ آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہے گا، خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔

ثالثاً: نانوتوی صاحب ابتداہی میں چودہ وجوہ سے یہ ثابت کر آئے کہ خاتم النبیین کے معنی آخرالانبیاء ہونا باطل ہے اور بطلان لازم بطلان ملزوم کو مستلزم ہے۔ تواگر ان کے عقیدے کے خلاف کوئی صاحب خاتمیت ذاتی کو زمانی لازم مانیں تو لازم آئے گا کہ خاتمیت ذاتی بھی باطل۔ اب نہ ذاتی رہی نہ زمانی۔

رابعاً: نانوتوی صاحب کے نیاز منداُن پر ناحق کی تہمت رکھتے ہیں، اس کا ہمارے پاس یا خود نانوتوی صاحب ہوتے توکیا علاج۔ نانوتوی صاحب نے خود لکھا! ’’ہاں اگر بطورِ اطلاق یا عموم مجاز اس خاتمیت کو زمانی اور رتبی سے عام لیجئے تو پھر دونوں طرح کا ختم مراد ہوگا۔ پر ایک مراد ہو تو شایان شانِ محمدی خاتمیت رتبی ہے نہ زمانی‘‘۔

اس کا صاف صاف مطلب یہ ہوا کہ خاتمیت زمانی یعنی آخرالانبیاء ہونا، حضورِ اقدس کے شایانِ شان نہیں۔ اور جب آخرالانبیاء ہونا شایانِ شان نہیں تو اسے لازم ماننے سے کیا فائدہ۔ بلکہ اُلٹا لازم آئے گا کہ حضور اقدس کے شایانِ شان جو وصف نہیں اسے حضور کے لئے ثابت مانا۔ کیا اس میں خود بقول نانوتوی صاحب نقصان قدر کا احتمال اور اللّٰہ عزوجل کی طرف بیہودہ بکواس کا تو ہم نہیں۔

نیز اخیر کے اس جملے نے خاتمیت زمانی کا بالکل صفایا کردیا۔ کہ جب یہ شایان شان نہیں تو خاتمیت کو مطلق مانیں، خواہ اس میں عموم مجاز کا قول کریں۔ یہ جب شایان شان نہیں تو کسی طور سے مانیں، لغو اور بے فائدہ ہوگا۔

نیز اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صفحہ ۳ پر بالذات کی قید صرف داشتہ بکار آید کے طور پر ہے ورنہ یہ قید لغو ہے’’شایانِ شانِ محمدی نہیں‘‘کا مطلب یہی ہے کہ اس میں کچھ فضیلت نہیں، نہ بالذات نہ بالعرض۔

ثابت ہوگیا کہ نانوتوی صاحب کا عقیدہ یہ ہے جو تحذیر الناس کی ان عبارات سے ظاہر ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر الانبیاء نہیں، صرف ’’نبی بالذات‘‘ کے ہیں جسے آخرالانبیاء ہونا لازم بھی نہیں۔

اسی وجہ سے انہوں نے صفحہ ۱۴،صفحہ ۲۸ پر بلاکسی ابہام کے صاف صاف لکھ دیا کہ: ’’اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہوجب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔ بلکہ اگربالفرض بعد زمانہ ٔ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو توبھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up