نیز نانوتوی صاحب اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں،
’’ترجمہ:خاتم النبیین کا معنی سطحی نظروالوں کے نزدیک تویہی ہے کہ زمانۂ نبوی گذشتہ انبیاء کے زمانے سے آخر کا ہے اور اب کوئی نبی نہیں آئیگا مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ ایسی بات ہے کہ اس میں خاتم النبیین کی نہ تو کوئی تعریف ہے اور نہ کوئی بُرائی‘‘۔
اسی مکتوب میں آگے چل کرلکھتے ہیں، ’’اور تم جانتے ہو کہ کلام ربانی(قرآن مجید) کے اس دار فانی سے اُٹھ جانے کے بعد قیامت کا آنا مقدر ہوچکا ہے ورنہ بشرط ِبقاءِ عالم اس وقت اگر دوسرا نبی آجائے تو مضائقہ نہیں‘‘۔
یعنی جب قرآن مجید دنیا سے اٹھا لیا جائے اگر اس وقت فورا قیامت نہ آئے تو دوسر ا نبی آسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نانوتوی صاحب حضور اقدس کو صرف اس وقت تک خاتم النبیین جانتے ہیں جب تک قرآن مجید دنیا میں باقی رہے۔ اور جب اٹھالیا جائے تو خاتم النبیین نہیں۔ اس کے بعد بھی دنیا باقی رہے تو دوسرا نبی آسکتا ہے کوئی مضائقہ نہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قرآن مجید دنیا سے اٹھاتے ہی فوراً بلا تاخیر قیامت آئے گی یا کچھ وقفے کے بعد۔ اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ قیامت کچھ وقفے کے بعد آئے گی تو اس وقفے میں بقول نانوتوی صاحب، کوئی نبی آسکتا ہے۔ اس سلسلے میں دیوبندیوں کے مسلم الثبوت حکیم الامت جناب تھانوی صاحب کی تحقیق پڑھیے۔ مقبول بہشتی زیور حصہ ہفتم صفحہ ۴۷ پر ہے۔ ’’جب سب مسلمان مرجائیں گے اس وقت کا فرحبشیوں کا ساری دنیا میں عمل دخل ہوگا۔ قرآن شریف دلوں سے اور کاغذوں سے اُٹھ جائےگا اور کوئی اللّٰہ اللّٰہ کہنے والا نہ رہےگا(الی ان قال)اور اس وقت دنیا کو بڑی ترقی ہوگی۔ تین چار سال اسی حال سے گزریں گے کہ دفعتہ جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ صبح کے وقت سب لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوں گے کہ صور پھونک دیا جائے گا‘‘۔
نانوتوی صاحب نے اپنے معتمد خاص کو یہ بات لکھی کہ دنیا سے قرآن مجید کے اٹھ جانے کے بعد اگر دنیا باقی رہے تو دوسرا نبی آسکتا ہے۔ آپ نے ملاحظہ فرما یا کہ قاسم نانوتوی نے دیدہ و دانستہ بالقصد والا رادہ مذکورہ بالا عبارات میں کئی کفریات کا ارتکاب کیا ہے ۔
قرآن مجید کا ارشاد {خاتم النبیین} کے معنی سب سے آخری نبی خود حضور نے بتائے ، صحابہ کرام نے بتائے ، پوری امت نے بتائے اور اس پر پوری امت نے قطعی، یقینی اجماع کرلیا کہ خاتم النبیین کے صرف یہی معنی ہیں وہ بھی اس تشریح کے ساتھ کہ اس میں کسی قسم کی تاویل یاتخصیص کی ذرہ برابر گنجائش نہیں ۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے اس کتاب کی انہی عبارات پر تکفیر کا حکم فرمایا اور32 علمائے حرمین شریفین نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تائید فرمائی اور ان کے تائیدی دستخط فتاویٰ حسام الحرمین پر ثبت ہیں۔ پھر اس کے بعد شیر بیشۂ اہلسنت حضرت مولانا حشمت علی خاں علیہ الرحمہ نے ایک استفتاء مرتب کیا جس کے نتیجے میں فتاویٰ حسام الحرمین کی تائید میں برصغیر کے 268 مشاہیر علماء و مفتیانِ کرام نے اعلیٰ حضرت کے فتوے کی توثیق اور تصدیق کی،جو الصوارم الہندیہ کے نام سے شائع ہوا۔ امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری علیہ الرحمہ کا بھی حسام الحرمین پر تائیدی فتویٰ موجود ہے، جو ’’الصوارم الہندیہ‘‘ میں شائع ہوا۔
اس کے بعد ایک قضیہ بابت مولوی قاسم نانوتوی، شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ نے بھی اس کی تکفیر فرمائی۔

