Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 113 of 115

آپ کے فتوے کو مولانا محمد منشاء تابش قصوری نے اپنی کتاب دعوت فکر کے صفحہ نمبر 110-111پر شائع کیا نیز ’’ختم نبوت اور تحذیر الناس‘‘ از سید بادشاہ تبسم بخاری کے صفحہ نمبر434-435پر بھی اس فتوے کا عکس طبع ہوا ۔ نیز ایک اور سوال کے جواب میں قبلہ شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کا دوسرا فتویٰ بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس میں آپ نے قاسم نانوتوی کے مذکورہ عقیدے اور اشرف علی تھانوی کی حفظ الایمان کی عبارت کو کفر صریح قرار دیا ۔حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے، ’’مذکورہ عقیدہ کفرِ صریح ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنے والے بے دین وگمراہ، کافر وجاہل ہیں۔ ان کے پیچھے نماز قطعاً ناجائز ہے‘‘۔

صاحبزادہ غلام نصیر الدین سیالوی مذکورہ فتاوی کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں ، ’’حضور شیخ الاسلام کے ان تمام فتاویٰ جات کے سامنے آنے کے بعد ان لوگوں کا تردّد دُور ہوجانا چاہیے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے گستاخانہ عبارات پیش کی گئیں اور انہوں نے تکفیر کرنے سے انکار کردیا‘‘۔

غزالی ٔدوراں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’تعجب ہے کہ صریح توہین آمیز عبارات لکھنے کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو حضور کی تعریف کی ہے گویا توہین صریح کو تعریف کہہ کر کفر کو اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ہم نے اس رسالہ میں علمائے دیوبند اور ان کے مقتدائوں کی عبارات بلاکمی و بیشی نقل کردی ہیں تاکہ مسلمان خود فیصلہ کرلیں کہ ان میں توہین ہے یا نہیں‘‘۔

اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں کی ہمارے اکابر  نے تکفیر فرمائی ان میں سے کسی نے بھی اپنے کفر کا اعتراف نہیں کیا بلکہ کوئی نہ کوئی تاویل پیش کی ہے لیکن علماء حق نے کفر صریح میں ان کی کسی تاویل کو قبول نہیں کیا۔آپ مزید لکھتے ہیں، ’’عرب و عجم کے علماء اہلسنّت نے جو علماء دیوبند کی توہین آمیز عبارات پر تکفیر فرمائی اگر آپ سچ پوچھیں تو مفتیانِ دیوبند کے نزدیک بھی وہ تکفیر حق ہے اور علماء دیوبند اچھی طرح جانتے کہ ان عبارات میں کفر صریح موجود ہے لیکن محض اس لئے کہ وہ ان کے اپنے مقتداؤں اور پیشواؤں کی عبارات ہیں، تکفیر نہیں کرتے اور اگر مفتیانِ دیوبند سے ان ہی کے پیشواؤں کی کسی ایسی عبارت کو لکھ کر فتویٰ طلب کیا جائے، جس کے متعلق انہیں علم نہ ہو کہ یہ ہمارے بڑوں کی عبارت ہے تو وہ اس عبارت کے لکھنے والے پر بے دھڑک کفر کا فتویٰ صادر فرمادیتے ہیں ۔ پھر جب انہیں بتادیا جائے کہ جس عبارت پر آپ نے کفر کا فتویٰ دیا یہ آپ کے فلاں دیوبندی مقتداء کا قول ہے تو پھر بجز ذلت آمیز سکوت کے کوئی جواب نہیں بن پڑتا۔

اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ سردست ہم ایک تازہ مثال ناظرین کرام کی ضیافت طبع کیلئے پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ایک دیوبندی العقیدہ مولوی صاحب نے جو مودودیت کا شکار ہوچکے ہیں، مودودی صاحب کو دیوبندیوں کے عائد کردہ الزاماتِ توہین سے بری الذمہ ثابت کرنے کیلئے مولوی محمد قاسم صاحب بانی مدرسہ دیوبند کی ایک عبارت ان کی کتاب تصفیۃ العقائد سے نقل کر کے دیوبند بھیجی اور اس پر فتویٰ طلب کیا۔ مگر یہ نہ بتایا کہ یہ عبارت کس کی ہے تو دیوبند کے مفتی صاحب نے اس عبارت پر بے دھڑک کفر کا فتویٰ صادر فرمادیا۔

ملاحظہ فرمائیے : اشتہار بعنوان: ’’دارالعلوم دیوبند کے مفتی کا مولانا محمد قاسم نانوتوی کو فتویٰ کفر‘‘ یہ فتویٰ دیوبندیوں کے گلے میں پھنس کر رہ گیا ۔دارالافتاء دیوبند سے جو فتویٰ موصول ہوا ہے وہ درج ذیل ہے۔مولانا محمد قاسم صاحب دارالعلوم دیوبند کی عبارت:

Share:
keyboard_arrow_up