Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 114 of 115

’’دروغ صریح بھی کئی طرح پر ہوتا ہے۔ ہر قسم کا حکم یکساں نہیں، ہر قسم سے نبی کو معصوم ہونا ضروری نہیں۔ بالجملہ علی العموم کذب کو منافی شان نبوت بایں معنیٰ سمجھنا کہ یہ معصیت ہے اور انبیاء علیہم السلام معاصی سے معصوم ہیں ، خالی غلطی سے نہیں‘‘۔

فتویٰ ۴۱/۷۸۶ الجواب: انبیاء علیہم السلام معاصی سے معصوم ہیں۔ ان کو مرتکب معاصی سمجھنا العیاذ باﷲ اہل سنت وجماعت کا عقیدہ نہیں۔ اس کی وہ تحریر خطرناک بھی ہے اور عام مسلمانوں کو ایسی تحریرات پڑھنا جائز بھی نہیں۔فقط ۔ واﷲ اعلم سید احمد سعید نائب مفتی دارالعلوم دیوبند جواب صحیح ہے ۔ ایسے عقیدے والا کافرہے۔ جب تک وہ تجدید ایمان اور تجدید نکاح نہ کرے، اس سے قطع تعلق کریں۔ مسعود احمد عفی اﷲ عنہ مہر دارالافتاء فی دیوبند الہند المشتہر: محمد عیسیٰ نقشبندی ناظم مکتبہ اسلامی لودھراں، ضلع ملتان۔

ایک دیوبندی صاحب نے نانوتوی صاحب کی عبارت کی تاویل یہ کی کہ اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو حضور خاتم النبیین رہیں گے اور مدعی کا دعویٰ باطل ہوگا۔یہ عبارت علامہ کاظمی صاحب علیہ الرحمہ کو بھیجی گئی تو آپ نے فرمایا، سوال یہ ہے کہ تحذیر الناس کی مذکورہ عبارت میں لفظ نبی سے جھوٹا مدعی ٔنبوت مرادہے یا سچا نبی ؟ اگر سچا نبی مراد ہے تو تاویل کرنے والا اس کے دعوی ٔنبوت کو باطل کہہ کر منکرِ نبوت قرار پایا۔ اور اگر (معاذ اللہ) جھوٹا مدعی ٔنبوت مراد ہے تو اس عبارت میں بالفرض کے کیا معنی ہوں گے؟ فرض تو ایسی چیز کو کیا جاتا ہے جو خلافِ واقع ہو۔ اور ظاہر ہے کہ بعد زمانۂ نبوی جھوٹے مدعیانِ نبوت کا بکثرت پیدا ہونا امر واقع ہے، اسے بالفرض کہنا کیونکر درست ہوسکتا ہے؟

معلوم ہوا کہ تاویلِ مذکور باطل ومردود ہے۔ آپ مزید فرماتے ہیں، جس چیز کے فرض کرنے سے کوئی محال لازم نہ آئے، وہ محال نہیں۔ اگر اللّٰہ تعالیٰ کا شریک فرض کرنے سے توحیدِ باری میں کچھ فرق نہ آئے تو شریکِ باری محال نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اگر کسی کے نزدیک شریکِ باری فرض کرنے سے توحیدِ باری میں فرق نہیں آتا تو سمجھ لیجیے کہ وہ شریکِ باری کو ممکن سمجھتا ہے اور شریکِ باری کو ممکن سمجھنا خود شرک ہے۔

پس جس طرح شریکِ باری فرض کرنے سے توحیدِ باری میں فرق آنا اس بات کی دلیل ہے کہ شریکِ باری محال ہے، اسی طرح حضور کے بعد کسی نئے نبی کا آنا فرض کرنے سے حضور کی خاتمیت میں فرق آنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضور کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ممکن نہیں۔

میں مذکورہ متنازعہ عبارت کو مزید آسان کر کے پیش کرتا ہوں۔اگر بالفرض کسی شخص کی آنکھ پھوٹ جائے تو کیا اس کی بینائی میں فرق نہیں آئے گا؟ اگر بالفرض کسی کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو کیا اس کی چال میں فرق نہیں آئے گا؟ ہر ذی شعور یہی کہے گا کہ اگر بالفرض کسی کی آنکھ پھوٹ ہی جائے تو بینائی میں تو فرق آئے گا، اگر بالفرض کسی کی ٹانگ ٹوٹ ہی جائے تو پھر چال میں تو فرق آئے گا۔ قارئین خود انصا ف فرمائیں کہ کیا خاتم الانبیاء کے زمانے میں یا آپ کے بعد کسی نئے نبی کی آمد فرض کر لینے سے ختمِ نبوت کے عقیدے پر ضرب نہیں پڑتی؟ کیا مرزا غلام احمد کذاب کے دعوی ٔ نبوت کو مذکورہ عبارت میں بیان شدہ عقیدے سے تقویت نہیں پہنچتی؟ کیا مذکورہ نظریات کا قائل عقیدہ ختم ِنبوت کا منکر نہیں ؟؟؟

صدرُ الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی قادری علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں، ’’لطف یہ کہ اس قائل (نانوتوی) نے ان تمام خرافات کا ایجادِ بندہ ہونا خود تسلیم کرلیا۔ تحذیر الناس میں لکھا، ’’اگر بوجہ کم التفاتی بروں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو اُن کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفلِ نادان نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا اتنی بات سے وہ عظیم الشان ہوگیا‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up