یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ جو معنی اس نے تراشے، سلف میں کہیں اس کا پتا نہیں اور نبی کے زمانہ سے آج تک جو سب سمجھے ہوئے تھے، اُس کوخیالِ عوام بتاکر رد کردیا کہ اس میں کچھ فضیلت نہیں۔ اس قائل پر علمائے حرمیں طیبین نے جو فتویٰ دیا وہ ’’حُسَّام الحرمین‘‘ کے مطالعہ سے ظاہر‘‘۔
قاسم نانوتوی کے برخلاف مفتی محمد شفیع دیوبندی لکھتے ہیں، ’’صحابہ وتابعین اور اسلاف متقدمین کی تفسیروں کے بعد ان کے خلاف کوئی قول ایجاد کرنا اور آیت کی مراد اُن سب کے خلاف قرار دینا یہ معنی رکھتا ہے کہ العیاذ باللّٰہ! تیرہ سو برس تک تمام امت نے قرآن کا مطلب غلط سمجھا‘‘۔
مزید لکھا ہے، ’’غرض صحابہ وتابعین جو کہ اس کتاب (قرآن مجید) کے علوم میں آنحضرت کے بلاواسطہ یا صرف ایک واسطہ سے شاگرد ہیں، اُن کے اقوال سے تجاوز کرنا اور اُن سب اقوال کے علاوہ کوئی نئے معنی ایجاد کرنا قرآن کو ناقابلِ اعتماد اور ناقابلِ عمل قرار دینا ہے‘‘۔
نانوتوی صاحب نے احادیثِ رسول،صحابہ وتابعین اور اسلاف کے برخلاف تحذیر الناس میں ’’خاتم النبیین‘‘ کا معنی’’بالذات نبی‘‘ کیا ہے اور کسی ایک جگہ بھی حدیثِ متواتر {لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ} کے مطابق خاتم الانبیاء، آخر الانبیاء یا آخری نبی نہیں کیا ۔ مفتی محمدشفیع دیوبندی کی یہ عبارت ملاحظہ ہو، ’’کیا قہر نہیں ہے کہ ایک شخص قرآن کی آیت کے معنی قواعدِ لغت کے خلاف اور خود تصریحاتِ قرآن کے خلاف اور پھر ڈیڑھ سو سے زائد احادیثِ نبویہ کے خلاف اور سینکڑوں صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر کے خلاف صاف صاف علی الاعلان بیان کرتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ یہ کہاں سے کہتا ہے‘‘۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ نانوتوی صاحب کا تحریف شدہ معنی مان لیاجائے تو اجماعِ امت سے انحراف کے ساتھ ساتھ ختمِ نبوت والی احادیث کے علاوہ ان احادیث کی بھی تکذیب لازم آئے گی جن میں نبی کریم نے اپنے اسماء مقدسہ الخاتم، الا ٓخر، العاقب اور المقفیٰ بیان فرمائے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ آپ سب نبیوں میں سے آخری نبی ہیں۔ مذکورہ اسماءِ مقدسہ آقا ومولیٰ کے امتیازی اوصاف ہیں۔ جب کوئی ان اسماء مبارکہ کا انکار کرے گا توبھی وہ خاتمیتِ مرتبی کا انکار ہوگا کیونکہ نانوتوی صاحب کے بقول خاتمیت کا دار ومدار مرتبہ پر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ تحذیر الناس کی متنازعہ عبارات سے ختمِ نبوتِ زمانی کا صریح انکار ثابت ہے۔ علماءِ حرمین کا فتویٰ ہے کہ ایسے عقیدہ کا قائل کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
یا رب العالمین! یا ارحم الراحمین! اپنے حبیبِ لبیب کے صدقے وطفیل اس کتاب کو مسلمانوں کے لئے مینارۂ نور اور تمام گمراہوں کے لئے ذریعۂ ہدایت بنا دے۔
الٰہی!اس کتاب کو مجھ فقیر کے لئے نیز مرتب، ناشر اور معاونین کے لئے صدقۂ جاریہ بنا دے ۔ یا ذالجلالِ والاکرام! ہماری مغفرت فرما ، ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرما، اور تمام مسلمانوں کو بدمذہبوں کے شر سے محفوظ فرما۔
آمین بجاہ النبی الکریم علیہ وعلیٰ اٰلہٖ واصحابہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔

