اسی بناء پر جناب مولوی محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند نے عوام کے معنوں کو نادرست قرار دیا ہے۔
آپ تحریر فرماتے ہیں، عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانے کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں وَلٰكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔ ( تحذیر الناس ص 3)
(رسالہ خاتم النبیین کے بہترین معنی ص 4شائع کردہ قادیان ) آسان لفظوں میں نانوتوی کی اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ لفظ خاتم النبیین کےمعنی آخری نبی قرار دینا یہ نا سمجھ عوام کا خیال ہے جو کسی بھی طرح قابل التفات نہیں ہے۔
اہلِ فہم طبقہ اس لفظ کے معنی آخری نبی کے نہیں سمجھتا کیونکہ زمانے کے اعتبار سے کسی کا پہلے ہونا یا آخر میں ہونا کچھ خاص مدح اور فضیلت کی چیز نہیں ہے۔ اس لفظ کے معنی آخری نبی قرار دینے میں چونکہ حضور ﷺ کی کوئی خاص فضیلت نہیں نکلتی اس لیے یہ معنی اگر مراد لیا جائے تو مقام مدح میں وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ کا ذکر کرنا لغو ہو جائے گا۔
غور فرمائیے ! ڈیڑھ ہزار برس کی لمبی مدت میں عہدِ صحابہ سے لے کر آج تک کتاب وسنت کی روشنی میں ساری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خاتم النبیین کے لفظ کے معنی آخری نبی کے ہیں۔ اس لفظ سے اگر حضور ﷺ کو آخری نبی نہ مانا جائے تو نئے نبی کی آمد کا راستہ کس دلیل سے بند کیا جا سکتا ہے۔ ساری امت میں نانوتوی وہ پہلا شخص ہے جس نے انگریزوں کا حق نمک ادا کرنے کے لیے حضور ﷺ کو آخری نبی ماننے سے انکار کیا ہے تا کہ قادیان سے ایک نئے نبی کی آمد کے لیے راستہ صاف ہو جائے ۔
نانوتوی صاحب کے حامیوں کا منہ بند کرنے کے لیے میں اس مسئلے میں ان ہی کے گھر کی ایک مضبوط شہادت پیش کرتا ہوں۔ دیو بندی جماعت کے معتمد وکیل مولوی منظور نعمانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں، یہ عقیدہ کہ ختمِ نبوت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، رسول اللّٰہ ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی آ سکتا ہے، ان آیات قرآنی اور احادیثِ متواترہ کی تکذیب ہے جن میں رسول اللّٰہ ﷺ کا خاتم النبیین اور آخری نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔
(ایرانی انقلاب : 81)
یہ عبارت چیخ رہی ہے کہ جو حضور ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا وہ آیاتِ قرآنی اور احادیثِ متواترہ کا انکار کرتا ہے اور دوسرے لفظوں میں وہ نئے نبی کی آمد کا دروازہ کھلارکھنا چاہتا ہے۔
یہی وہ گراں قدر خدمت ہے جس کے صلے میں قادیانی جماعت کی طرف سے قاسم نانوتوی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے جیسا کہ ایک قادیانی مصنف نے لکھا ہے، جماعت احمد یہ
خاتم النبیین کے معنوں کی تشریح میں اسی مسلک پر قائم ہے جو ہم نے سطور بالا میں جناب مولوی محمد قاسم نانوتوی کے حوالہ جات سے ذکر کیا ہے۔ (افاداتِ قاسمیہ ص 16)
ایک معمولی ذہن کا آدمی بھی اتنی بات آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی مخالف کے مسلک پر قائم رہنے کا عہد ہر گز نہیں کر سکتا۔ پیچھے چلنے کا پُر خلوص جذبہ اسی شخص کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے جسے اپنا ہم سفر اور مقتد ا سمجھا جائے۔
اب ان نتائج پر غور فرمائیے جوان مذکورہ عبارتوں کے تجزیہ کے بعد سامنے آتے ہیں تا کہ یہ حقیقت آپ پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ دیو بند اور قادیان کے درمیان فکر اور استدلال کی کتنی گہری یکسانیت ہے اور دیو بند صرف وہابیت ہی کا نہیں قادیانیت کا بھی محسن اعظم ہے۔

