1۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قاسم نانوتوی کی صراحت کے مطابق خاتم النبیین کے الفاظ سے حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی سمجھنا یہ معاذ اللّٰہ نا سمجھ عوام کا شیوہ ہے۔ امت کا سمجھ دار طبقہ خاتم النبیین کے لفظ سے آخری نبی مراد نہیں لیتا۔ ان ہی سمجھ دار لوگوں میں ایک سمجھ دار قاسم نانوتوی بھی ہیں۔
2۔ دوسری بات یہ ہے کہ خاتم النبیین کے اجماعی معنی کو منسخ کر کے حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار سب سے پہلے قاسم نانوتوی نے کیا ہے۔ کیونکہ قادیانیوں نے اگر انکار میں پہل کی ہوتی تو وہ ہرگز یہ اعلان نہ کرتے کہ لفظ خاتم النبیین کے معنی کی تشریح کے سلسلے میں جماعت احمد یہ نانوتوی کے مسلک پر قائم ہے۔
3۔ تیسری بات یہ ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے انکار کے سلسلے میں مرزاقادیانی اور نانوتوی کے انداز فکر اور طریقہ استدلال میں پوری یکسانیت ہے۔ چنانچہ قادیانیوں کے یہاں بھی خاتم النبیین کے اصل مفہوم کو منسخ کرنے کے لیے حضور سراپا نور کی عظمت شان کا سہارا لیا گیا ہے اور نانوتوی بھی مقام مدح کہہ کر آخری نبی کے معنی کے انکار کے لیے حضور کی عظمت شان ہی کو بنیاد بنا رہے ہیں۔ وہاں بھی کہا گیا ہے کہ خاتم النبیین کے لفظ سے حضور ﷺ کو آخری نبی سمجھنا یہ معنیٰ عام مسلمانوں میں رائج ہیں اور یہاں بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ معنی عوام کے خیال میں ہیں۔ اتنی عظیم مطابقتوں کے بعد اب کون کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلے میں دونوں کا نقطۂ نظر الگ الگ ہے۔
دنیا سے انصاف اگر رخصت نہیں ہو گیا تو اب اس انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ قادیان اور دیو بند ایک ہی تصویر کے دورخ ہیں یا ایک ہی منزل کے دو مسافر ہیں۔ کوئی پہنچ گیا ہے اور کوئی رہ گزر میں ہے۔ پس خاتم النبیین بمعنی آخری نبی کے انکار کی بنیاد پر اگر قادیانی جماعت کو منکر ختم نبوت کہنا امر واقعہ ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اسی انکار کی بنیاد پر دیوبندی جماعت کو بھی منکر ختم نبوت نہ قرار دیا جائے۔ شاید صفائی میں کوئی یہ کہے کہ قادیانی جماعت کے لوگ چونکہ حضور ﷺ کے بعد عملاً ایک نیا نبی مان چکے ہیں اس لیے انہیں منکر ختم نبوت کہنا واقعہ کے عین مطابق ہے۔
میں جواباً عرض کروں گا کہ عقیدے کی حد تک یہی مسلک تو دیوبندی جماعت کا بھی ہے جیسا کہ ان کی کتاب تحذیر الناس میں لکھا ہوا ہے: اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔ (تحذیر الناس ص 12)
بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا ۔
( تحذیر الناس ص 28)
غور فرمائیے! جب دیوبندی جماعت کے یہاں بھی بغیر کسی قباحت کے حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہو سکتا ہے تو قادیانیوں کا اس سے زیادہ اور قصور ہی کیا ہے کہ جو چیز اہل دیوبند کے یہاں جائز ممکن تھی ، اسے انہوں نے واقع کر لیا۔
اصل کفر تو نئے نبی کے جواز وامکان سے وابستہ تھا۔ جب وہی کفر نہ رہا تو اب کسی نئے مدعی نبوت کو اپنے دعوے سے باز رکھنے کا ہمارے پاس کیا ذریعہ رہا۔ کیونکہ اس راہ میں عقیدے کی جو سب سے مضبوط دیوار حائل تھی وہ تو یہی تھی کہ قرآن وحدیث کی نصوص اور اجماع امت کی روشنی میں چونکہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں اس لیے حضور کے بعد اب کوئی نیا نبی ہرگز پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن جب دیوبندی جماعت کے نزدیک حضور ﷺ آخری نبی بھی نہیں ہیں اور کسی نئے نبی کے آنے کی صورت میں حضور ﷺ کی خاتمیت میں بھی کوئی فرق نہیں آسکتا تو آپ ہی انصاف کیجئے کہ اب آخر کس بنیاد پر کسی نئے مدعی نبوت کو اس کے دعوے سے باز رکھا جائے گا اور کس دلیل سے کسی نئے نبی پر ایمان لانا کفر قرار پائے گا۔
اس لیے ماننا پڑے گا کہ بنیادی سوال کے لحاظ سے دیو بندی جماعت اور قادیانی جماعت کے درمیان قطعا کوئی جو ہری فرق نہیں ہے۔

