Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 11 of 115

میری اس مدلل رائے سے اگر دیوبندی مذہب کے علماء کو اختلاف ہو تو وہ کھلے بندوں یہ اعلان کر دیں کہ تحذیر الناس ان کی کتاب نہیں ہے۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو تحذیر الناس میں کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ جن دو بنیادی عقیدوں کا انکار کیا گیا ہے اور جس کے نتیجے میں کسی نئے نبی کے آنے کا دروازہ کھل جاتا ہے اس کے خلاف فتوے کی زبان میں اپنی مذہبی بیزاری کا صاف صاف اعلان کریں۔(ماخوذ)

پیش لفظ

الحمد لک يا رب العالمين والصلوة والسلام عليك يا خاتم النبيين

تمام تعریفیں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کے لیے جو ہر مخلوق کا خالق و مالک ہے۔ لاکھوں کروڑوں درود و سلام ہوں سیدنا محمد مصطفیٰ  پر جو منصبِ نبوت پر فائز ہونے میں سب سے اول، دنیا میں بابِ نبوت کے خاتم اور آخرت میں باب شفاعت کے فاتح ہیں، وہی ہیں جن کی خاطر یہ کائنات رنگ و بو بنائی گئی۔

بقولِ اعلیٰ حضرت:

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا،وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے

اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کے محبوب رسول نے احادیث متواترہ کے ذریعے بتا دیا کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں

تا کہ لوگوں پر ظاہر ہو جائے کہ خاتم النبیین کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب، افترا پرداز ، دجال، دھوکہ باز ، خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر )

آقا و مولیٰ  کا آخری نبی ہونا ایسا بنیادی عقیدہ ہے کہ جس کی تصریح قرآن و سنت میں موجود ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ پس جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کافر ہے۔

اور اگر وہ تو بہ نہ کرے اور اس دعوے پر مصر رہے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ (تفسیر روح المعانی)

مسلمان پر لازم ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ہر حکم کو مانے خواہ اس کی وجہ اور حکمت سمجھ میں آئے یا نہیں۔

البتہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں غور و فکر سے منع نہیں کیا کیونکہ جب کسی حکم کی حکمت بھی سمجھ میں آجائے تو بندے کو شرح صدر ہوتا ہے اور اس کا ایمان مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ اربابِ عقل و دانش کو دعوت فکر ہے کہ تمام مسلمان کلمۂ طیبہ میں اقرار کرتے ہیں کہ حضرت سید نا محمد اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جب اس پر پختہ ایمان ہے۔

تو پھر ان کے اس فرمانِ عالیشان پر بھی کامل ایمان ہونا چاہیے کہ :

﴿ اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِی ﴾

میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

جس وحدہ لاشریک نے انہیں آخری نبی بنا کر بھیجا، اس نے اپنی لاریب کتاب میں بھی انہیں ﴿خَاتَمَ النَّبِیّین﴾فرما دیا۔ پھر اس لفظ کی تفسیر خود رسول معظم نے ،صحابہ و تابعین نے اور تمام علماءِ امت نے ”آخری نبی“ سے فرمائی۔

اگر بالفرض کسی نبی کے آنے کا امکان ہوتا تو جس صادق وامین نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے وہ ہرگز یہ نہیں فرماتے کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ دنیا میں ہر چیز ممکن ہے، نبی کا جھوٹ بولنا ممکن نہیں۔ پس جب رب تعالیٰ فرمادے کہ وہ آخری نبی ہیں، حضور خود فرمائیں کہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہوگا نہ کوئی رسول، تو پھر ہمیں کسی مدعیٔ نبوت کی طرف متوجہ ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔

اور جو کوئی تاویل و تحریف کے ذریعے نبوت کے جاری رہنے کا دعویٰ کرتا ہے تو گویا وہ اللّٰہ اور اس کے رسول کے کلام کا مذاق اُڑاتا ہے اور ان سے کھلے عام بغاوت پر آمادہ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی شاگرد اپنے استاد کا تمام علم حاصل کرلے اور بعد ازاں اسی درسگاہ میں اپنے استاد کی جگہ اس کے مقام پر فائز ہو جائے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مرید اپنے پیر و مرشد سے کامل استفادہ کرے اور روحانیت میں اس قدر ترقی اور فیض پائے کہ پیر ا سے اپنا خلیفہ بنادے۔

لیکن تاریخِ انبیاء میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی شخص اپنے نبی کی کامل اتباع کرے اور عبادت و ریاضت کے سبب اسے نبوت کا مقام حاصل ہو جائے۔ کہاں تو یہ حقیقت کہ کوئی شخص بھی عبادت وریاضت کے ذریعے کوشش کر کے نبی نہیں بن سکتا اور کہاں یہ سچائی کہ کوئی حقیقی علم سے جاہل رہے، اتباع نبوی سے بھی محروم ہو اور پھر خود ہی نبی ہونے کا اعلان کر دے۔

Share:
keyboard_arrow_up