ظلی یا بروزی کی اصطلاحیں مرزا کذاب کی خود ساختہ اور من گھڑت ہیں۔
ایک دنیاوی مثال کے ذریعے اس مسئلہ کو سمجھ لیجیے۔ اگر کسی بادشاہ کا مصاحب یہ دعویٰ کرے کہ میں بادشاہ کا ظل (سایہ) اور بروز (مظہر ) ہوں۔ اس لیے مجھے بادشاہ کا مقام حاصل ہوگیا ہے لہٰذا اب میں ہی بادشاہ ہوں۔ بادشاہ کے محلات، خزانے ، خدام ، فوج اور ملک کا انتظام وغیرہ سب میرے قبضہ و اختیار میں ہے، پس اب جو مجھے بادشاہ نہیں مانے گا وہ حقیقی بادشاہ کا باغی اور غدار ہوگا۔
آپ بتائیے کہ ایسے شخص کو بادشاہ کا محبّ کہا جائے گا یا اسے باغی، سرکش اور غدار قرار دےکر تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔ کسی صاحبِ عقل و فہم کے لیے نتیجہ اخذ کرنا ہرگز مشکل نہیں کہ جو شخص خاتم الانبیاء ﷺ کا ظل اور بروز ہونے کا دعویٰ کر کے یہ کہتا ہے کہ میں محمد رسول اللّٰہ ہوں ،رحمۃ اللعالمین ہوں، جو مجھے نہیں مانتا، وہ کافر ہے۔ ایسا شخص اگر پاگل نہیں ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا باغی اور اسلام کا غدار ضرور ہے۔
زیرِ نظر کتاب:
پیرِ طریقت مفکرِ اسلام علامہ سید شاہ تراب الحق قادری دامت برکاتہم القدسیہ کی ختمِ نبوت سے متعلق یاداشتوں اور تقاریر کا مجموعہ ہے۔ دسمبر ۲۰۱۳ء میں استاذی و مرشدی قبلہ شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو بصد محبت و شفقت فرمایا، مولانا ! اس پرفتن دور میں ناموسِ رسالت اور تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے کام کرنا عظیم جہاد ہے۔ جو آج ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے لیے جد و جہد نہیں کرے گا وہ کل کس منہ سے
آقاو مولیٰ ﷺ کی شفاعت کا طلب گار ہوگا۔ یہ مسودہ آپ ہی نے ترتیب دینا ہے۔ الحمد للّٰہ ! احقر نے حسبِ ارشاد مسودہ ترتیب دیا، عزیزم حافظ محمد حسان سلمہ نے قبلہ شاہ صاحب کی تقاریر لکھیں۔ قادیانی اخبارات اور ان کی اکثر کتب کے حوالہ جات پروفیسر الیاس برنی صاحب کی کتاب ” قادیانی مذہب“ سے لیے گئے ہیں۔ احقر نے عالمِ اسلام کے اس عظیم مفکر، تحریکِ ختمِ نبوت کے اس بے مثل مجاہد اور اہلسنت کے اس عظیم روحانی پیشوا سے ختمِ نبوت کے حوالے سے چند سوالات بھی کیے جنہیں مع جوابات قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کیا جارہا ہے۔
عرض : بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی قرآن کریم سے دلائل دیتا ہے اس کے باوجود آپ اسے کافر کیوں کہتے ہیں؟
ارشاد: غیر جانبدارانہ تجزیہ کیجیے تو واضح ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی قرآن مجید سے عقیدہ اخذ نہیں کرتا بلکہ اپنا خود ساختہ عقیدہ قرآنِ کریم پر مسلط کر کے اپنی مرضی کا مفہوم نکالتا ہے جو کہ قرآن وسنت کی واضح نصوص کے خلاف ہوتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ مرزا نے اپنی کتابوں میں قرآن مجید کی آیات جابجا غلط درج کی ہیں۔ توجہ دلانے کے باوجود قادیانی ان آیات کو درست کرنے پر آمادہ نہیں۔ بلکہ انکا خلیفہ کہتا ہے،
”رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود کی بعض کتب کے دو دو تین تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور تیسں چالیس برس کا عرصہ بھی گذر چکا ہے اب تک کیوں ان (آیات) کی تصحیح نہیں کی گئی ؟
سو اس کا جواب میں یہی دوں گا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت نے یہی تقاضا کیا کہ یہ آیات حضور ( مرزا) کی کتب میں اسی طرح لکھی جائیں جیسی کہ حضور کے زمانہ میں سہو کا تب سے یا خود حضور کے بعض دیگر آیات سے تشابہ کے باعث غلط لکھی گئیں اور اس میں تین راز ہیں“۔( قادیانی مذہب بحوالہ اخبار الفضل قادیان ج 19نمبر103 مورخہ28فروری 1932ءک)
ہمارے نزدیک تو بڑا راز یہی ہے کہ جو شخص اپنی دلیل میں قرآن کی آیات غلط لکھتا ہے، اس کے دعوے کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ پس امت کا اجماع ہے کہ جو بھی خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کافر و مرتد ہے۔

