عرض: مرزائیوں کا لاہوری گروپ کہتا ہے کہ مرزا صاحب مصلح اور مسیح موعودتھے، انہوں نے کبھی بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ ارشاد : یہ صریح جھوٹ ہے۔ اخبار الفضل قادیان کی گواہی موجود ہے ”خادم (عبدالرحمٰن قادیانی) صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا) کی کتب سے چالیس حوالے پڑھ کر سنائے جن میں حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو نبی قرار دیا ہے اور نبوت کا غیر مشروط دعویٰ کیا ہے “۔
( ج 24 نمبر123 ص 11، 21 نومبر1936ء) کئی حوالے ہم نے اس کتاب میں تحریر کیے ہیں۔ افسوس کہ آج مسلمان اپنی اولاد کے رشتے طے کرتے وقت عقیدہ و مسلک کا لحاظ نہیں کرتے ، جبکہ قادیانی خلیفہ میاں محمود احمد لکھتا ہے، جو ( قادیانی) لوگ، غیر احمدیوں (مسلمانوں) کولڑ کی دیدیں اور وہ اپنے اس فعل سے توبہ کیے بغیر فوت ہو جائیں، ان کا جنازہ بھی جائز نہیں۔(اخبار الفضل قادیان ج 13 نمبر102 ص 12 مورخہ13اپریل1926ء)
عرض: مرزا اپنے دعوے کی تائید میں اولیاء اللّٰہ کے حوالے بھی پیش کرتا ہے، اس حوالے سے آپ کیا فرماتے ہیں؟
ارشاد : مرزاد جال، اولیاء اللّٰہ کی بعض عبارات کو غلط معانی پہنا کر پیش کرتا ہے۔ مثلاً حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا کہ جو شخص فلاں ایمانی خصوصیت رکھتا ہو ، وہ محدث کہلاتا ہے۔ مرزا نے وہاں لفظ بدل کر لکھ دیا کہ وہ نبی کہلاتا ہے۔ بعد میں جب پتہ چلا اور اعتراض ہوا تو قادیانیوں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا۔
چنانچہ قادیانی ترجمان لکھتا ہے، ”مجدد صاحب سرہندی نے تو محدث ہی لکھا ہے مگر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے خدا سے علم پا کر محدث کی بجائے نبی لکھ دیا ہے اور یوں مکتوبات کی غلطی کو درست کر دیا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ بعض اہل اللّٰہ احادیث کی بعض غلطیوں کو حضرت ﷺ سے علم پا کر درست کر دیتے ہیں“۔ ( قادیانی مذہب بحوالہ اخبار پیغام صلح لاہور ج 24 نمبر3 مؤرخہ11 جنوری1936ء)
اب بتائیے کہ جو شخص قرآن و حدیث میں تحریف کرے، حضور ﷺ کی شان میں نازل شدہ آیات کو خود پر منطبق کرے، کیا وہ دجال اور کذاب نہیں ہے؟
عرض: 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بھر پور حصہ لیا تھا۔ اس تحریک کے دوران اپنے یادگار جلسوں کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے ۔
ارشاد: تحریک ختم نبوت سے متعلق اجلاس دار العلوم امجدیہ میں ہوتے جس میں مفتی وقار الدین، مفتی ظفر علی نعمانی علیہ الرحمہ اور کثیر علماء شریک ہوتے۔ اس میں لائحہ عمل طے ہوتا کہ کس وقت کس مسجد میں جلسہ کرنا ہے۔ طریقہ کار یہ طے ہوا کہ جس عالم نے جس مسجد میں جلسہ کرنا ہے وہ نماز عصر کے فورا بعد تقریر شروع کر دے۔ نیز یہ بھی طے ہوا کہ گرفتاری سے بچا جائے تا کہ تحریک کمزور نہ پڑے۔ میں نے یوں تو کئی مساجد میں قادیانیوں کے خلاف تقاریر کیں مگر ایک یادگار جلسہ مسجد باب الاسلام آرام باغ میں کیا جو کہ دیو بندیوں کی مسجد ہے۔ وہاں جلسہ میں عصر سے مغرب تک میں نے خطاب کیا۔ جلسہ کے دوران پولیس نے مسجد کو گھیر لیا۔ میں نے ایک کارکن کو تیار رکھا تھا کہ مغرب کے فورا بعد ہم نے نکلنا ہے۔ چونکہ حکمت عملی طے شدہ تھی کہ مقرر علماء کو گرفتاری سے بچنا ہے تا کہ تحریک دب نہ جائے۔ لہٰذا نماز کے بعد میں نے ٹوپی اتار کر جیب میں رکھ لی اور عام نمازی کی طرح مسجد سے باہر نکلا اور اُس کا رکن کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر مکتبہ رضویہ پہنچ گیا، اور پولیس مایوس ہو کر لوٹ گئی۔
دوسرا یادگار جلسہ سبز مسجد کھارادر میں ہوا۔ وہاں مولانا جمیل احمد نعیمی امام و خطیب تھے۔ جب میں نے تقریر شروع کی تو کسی نے فون کر کے پولیس بلالی۔ ایسے غدار لوگ بھی تھے جو جلسہ میں شرکت کی بجائے فون کر کے پولیس بلا لیتے تھے۔ مجھے خبرہوگئی تو وہاں سے بھی تقریر کے بعد میں عام نمازی کی طرح نکل کر حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ کے حجرے میں پہنچ گیا۔

