Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 14 of 115

عرض: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ علماء و مشائخ کو کسی سے بحث مباحثہ نہیں کرنا چاہیے، بس اللّٰہ اللّٰہ کریں اور محبت و اخوت کا درس دیں۔

ارشاد: نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہر مسلمان پر بقدر استطاعت فرض ہے۔ کسی کے گھر چور آ جائے تو اس کا پالتو کتا اپنے مالک کی وفاداری میں اُس چور کو پڑ جاتا ہے۔ تو جب آقا و مولیٰ کی عزت و ناموس پر بد مذہب ڈاکہ ڈالنا چاہیں تو علماء حق پر لازم ہے کہ تحریر وتقریر کے ذریعے اُن بدمذہبوں کا مقابلہ کریں، بلا شبہ یہ عظیم جہاد ہے۔

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے تمام عمر یہی جہاد کیا۔ فاتحِ قادیانیت پیرسید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کا یہ ارشاد بھی ملاحظہ کیجئے ،

”ہم سے تو ایسی فقیری نہیں ہو سکتی کہ عقائد متواترہ اسلامیہ پر ایسے حملوں کے وقت خاموش بیٹھ کر تماشا دیکھا کریں۔ اور ہم ایسے فقر سے بھی ہزار دل سے بیزار ہیں جو عین مداہنت اور بے غیرتی ہو“۔ ( ملفوظات مہریہ، ملفوظ :156) میں نے اپنی ذات کی خاطر یا کسی دنیاوی مفاد کے لیے قادیانیت کے خلاف قلم نہیں اٹھایا بلکہ مقصد صرف رب کی رضا اور آقا و مولیٰ کی نظر کرم کا حصول ہے اور یہ امید کہ ناموس رسالت کی نگہبانی کرنے والوں میں میرا بھی شمار ہو جائے ۔

حضرت شاہ صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ کے ارشادات مبارکہ مختصراً قارئین کی خدمت میں پیش کر دیے ۔ حق یہ ہے کہ آپ کا دل عشق رسول سے لبریز اور آپ کی ذات حق گوئی کا پیکر ہے۔ آپ کی تبلیغی مساعی کا خلاصہ یہی ہے کہ:

بمصطفىٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ اُو نرسیدی، تمام بولہبی است

خود کو مصطفیٰ کریم تک پہنچا دو کیونکہ دین انہی کی محبت و اطاعت کا نام ہے۔ اگر تم اُن تک نہ پہنچ سکے تو تمہارے تمام اعمال ابولہب کی طرح ہیں۔ موجودہ پُرفتن دور میں جبکہ کئی علماء مصلحت اور مداہنت کا شکار ہو چکے اور کئی اسی سمت گامزن ہیں، اہلِ باطل کی پرواہ کیے بغیر کلمہ حق کہنا کم یاب ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں فدایانِ ختمِ نبوت کے نام سے پنجاب میں علامہ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ (شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ ) تحفظِ ناموسِ رسالت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

آپ ماہنامہ ”العاقب“ شائع کرتے ہیں اور ملک بھر میں تقاریر کے ذریعے فکرِ رضا یعنی تحفظِ ناموسِ رسول کا درس دیتے ہیں۔

آپ فرماتے ہیں،

”آدمی دلیر اُسی وقت ہوتا ہے جب اُس کے دل میں محبت رسول راسخ ہو جائے ۔ اب ہر موڑ پر ناموس مصطفیٰ ہی کی بات ہوگی اور وہ بھی سینہ تان کر ہوگی ۔ حضور کی ناموس کے معاملہ میں معذرت خواہانہ رویہ کسی مومن کو زیب نہیں دیتا“۔

غازی علم الدین شہید، غازی عبدالرشید اور غازی عبدالقیوم شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ۴ جنوری ۲۰۱۱ء کو غازی ملک ممتاز حسین قادری نے اسلام آباد میں پنجاب کے ملعون گورنر کو ۲۷ گولیاں مار کر واصل جہنم کیا۔ ان کی رہائی کے لیے ہر سنی کو اپنی بھر پور کوشش ضرور کرنی چاہیے۔

امام مالک علیہ الرحمہ کا ارشاد ہے،

”اگر گستاخ رسول سے اُمت بدلہ نہ لے تو اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں“۔ جسے اللّٰہ تعالیٰ ہدایت دے، اُسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جسے وہ گمراہی کے اندھیرے میں بھٹکتا چھوڑ دے، اُسے راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔

رب کریم اس کتاب کو نافع خلائق و توشۂ آخرت بنائے ، اٰمین بجاہ النبی الکریم ۔

فتحِ باب نبوت پر بے حد دُرود

ختم دور رسالت پہ لاکھوں سلام

خاک پائے علماء حق، عبد المصطفیٰ قادری

Share:
keyboard_arrow_up