باب اول:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَحْدَہٗ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی مَنْ لاَّنَبِیَّ بَعْدَہٗ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ اَوْفُوْا عَہْدَہٗ
قرآنِ کریم اور ختمِ نبوت:
1۔اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا فرمانِ ذیشان ہے،
{مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآاَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا}
’’محمد (ا) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں اللّٰہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے، اور اللّٰہ سب کچھ جانتا ہے‘‘۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللّٰہ تعالیٰ نے رسولِ معظم کا مبارک نام لے کر ارشاد فرمایا کہ: آپ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں۔جو کوئی نبی کریم کے بعد قیامت تک کسی نئے نبی کاپیدا ہونا،ممکن مانے ،وہ اس آیت کا منکر اورکافر ہے۔
صدرُ الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
’’یعنی(حضورا)آخر ُ الانبیاء ہیں کہ نبوت آپ پر ختم ہوگئی۔ آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی، حتیٰ کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونگے تو اگرچہ نبوت پہلے پا چکے ہیں مگر نزول کے بعد شریعتِ محمدیہ پر عامل ہونگے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبۂ معظمہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔
حضور کا آخر ُ الانبیاء ہونا قطعی ہے۔ نصِ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیث جو حدِ تواتر تک پہنچتی ہیں، ان سب سے ثابت ہے کہ حضور سب سے پچھلے(یعنی آخری) نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ جو حضور کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے، وہ ختمِ نبوت کا منکر اور کافر، خارج اَز اسلام ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ آیتِ مبارکہ میں آقا کریم کے لئے صفت ’’رسول‘‘ بیان ہوئی ہے مگر اس کے بعد آپ کے لئے
’’خاتم المرسلین‘‘ کی بجائے ’’خاتم النبیین‘‘ کے الفاظ ارشاد فرمائے گئے ہیں۔
اس کی حکمت یہ ہے کہ نبی کا لفظ عام ہے اُس ہستی کے لئے جس پر اللّٰہ تعالیٰ وحی فرمائے خواہ اُسے کوئی صحیفہ عطا ہوا یا وہ کسی سابقہ نبی کی شریعت کے تابع لوگوں کی ہدایت کے لئے مامور ہوا ہو۔جبکہ رسول اُس نبی کو کہا جاتا ہے جسے کتاب اور شریعت عطا کی گئی ہو۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر رسول نبی ہوتاہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔
اب آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ رسولِ معظم سب نبیوں کے آخری ہیں خواہ وہ صاحبِ شریعت نبی ہوں یا کسی نبی کے تابع ہوں یعنی غیر تشریعی نبی ہوں ۔
پس اس آیت نے ہر قسم کی نبوت کا، خواہ وہ ظلی ہو یا بروزی، دروازہ بند کردیا۔ تفاسیر اور{خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ} :
1۔صحابی ٔ رسول ا، سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما(م۶۸ھ) نے فرمایا، ’’اللّٰہ تعالیٰ نے حضور کی ذاتِ اقدس پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا، پس آپ کے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔
2۔امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (م ۳۱۰ھ) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں،
’’خاتم النبیین وہ ذات ہے جس پر اللّٰہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ ختم کردیا اور اس پر مہر لگادی، پس قیامت تک اب کسی کے لئے کھولا نہ جائے گا‘‘۔
3۔امام ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رحمہ اللہ (م ۶۶۸ ھ)فرماتے ہیں،
’’ہر دور میں علماء کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ یہ الفاظ اس بارے میں نص ہیں کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘۔

