Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 16 of 115

4۔علامہ علی بن محمد خازن شافعی رحمہ اللہ (م ۷۲۵ھ) فرماتے ہیں،

’’اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی ذاتِ اقدس پر نبوت کو ختم فرما دیا۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور نہ ہی آپ کے زمانے میں‘‘۔

5۔علامہ ابن کثیر (م۷۷۴ھ)اس آیت کے تحت رقم طراز ہیں،

’’یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جب نبی کا آنا محال ہے تو کسی رسول کا آنا بطریقِ اولیٰ محال ہے‘‘۔

6۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ (م ۹۱۱ھ)تفسیر جلالین میں لکھتے ہیں،

’’اللّٰہ تعالیٰ کے علم میں سے یہ بھی ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وہ آپ ہی کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے‘‘۔

7۔علامہ قاضی محمد ثناء اللّٰہ پانی پتی رحمہ اللہ(م۱۲۲۵ھ) فرماتے ہیں،

’’امام عاصم نے لفظ {خَاتَمَ} کو تاء مفتوحہ کے ساتھ پڑھا ہے جس کا معنیٰ آخری ہے۔ جبکہ دیگر نے تاء کو مکسور پڑھا ہے جس کا معنی ہے، ختم کرنے والا۔دونوں کا مفہوم یہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا‘‘۔

8۔علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمہ اللہ (۱۲۷۰ھ) اس آیت کے تحت رقم طراز ہیں،

’’چونکہ حضورِ اکرم  آخری نبی ہیں، یہ اس بات پردلیل ہے کہ نبی کریم کی اولادِ نرینہ بلوغت کو نہ پہنچے گی۔ کیونکہ اگر آپ کا کوئی بیٹا بلوغت کی عمر کو پہنچتا تو اس کا منصب یہ تھا کہ وہ نبی ہوتا، تو اس صورت میں حضور آخری نبی نہ رہتے۔

امام احمد ، وکیع سے، اور وہ اسماعیل سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللّٰہ بن ابی اوفیٰ صکو یہ فرماتے سنا کہ اگر حضور کے بعد کوئی نبی ہوتا تو آپ کا بیٹا فوت نہ ہوتا‘‘۔

ذہن نشین رہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آقا ومولیٰ کے تین فرزند قاسم، طیب اور طاہرث جبکہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے ابراہیم  پیدا ہوئے اور مذکورہ چاروں بیٹے بچپن ہی میں وصال فرما گئے۔ مذکورہ آیت میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ حضور اگرچہ جسمانی طور پر تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں {لٰکِنْ} لیکن روحانی طور پر تمام امت کے باپ ہیں کیونکہ وہ اللّٰہ کے رسول ہیں۔

یہ بھی فرمانِ الٰہی ہے،

{وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُہُمْ} 

’’ اور اس کی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں‘‘۔

نبی امت پر ایسے شفیق ہیں جیسے باپ اولاد کے لئے شفیق ومہربان ہوتا ہے۔ اگر کسی حقیقی باپ کو علم ہو کہ اس کے بعد اس کی اولاد کے کاموں کی نگہبانی کرنے والا کوئی موجود نہیں تو وہ اپنی اولاد سے متعلقہ ضروری کام نامکمل نہیں چھوڑتا۔ ہمارے آقا و مولیٰ کو علم تھا کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اس لئے انہوں نے نہایت شفقت و رحمت سے قرآنی اصولوں کی مکمل تشریح اپنی سنت کی صورت میں امت کو عطا فرما دی نیز نئے آنے والے فتنوں سے بھی امت کو آگاہ فرما دیا۔

عقیدہ ختمِ نبوت، قرآن میں اب مزید چند آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں ختم نبوت کے عقیدہ کا بیان ہے۔

{وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ}

 ’’اور وہ(متقی ہیں جو) کہ ایمان لائیں اُس پر جو (اے محبوب!) تمہاری طرف اُترا اور جو تم سے پہلے اُترا‘‘۔

اس آیتِ مبارکہ میں متقی مسلمانوں کی یہ صفات بیان ہوئیں کہ وہ اُس وحی پر ایمان رکھتے ہیں جو نبی کریم  پر نازل ہوئی اوراُس وحی پر بھی جو آپ سے پہلے نازل ہو چکی۔

اگر حضور اکرم کے بعدبھی کوئی وحی نازل ہونے والی ہوتی تو اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہوتا ۔

اور پھر یہ بھی ارشاد ہوتا،

وَمَا یُنْزَلُ مِنْ بَعْدِکَ۔

یعنی’’جو آپ کے بعد نازل ہوگا‘‘۔چونکہ ایسا نہیں ہے اس لئے حضور  کے بعد کوئی نیا نبی بھی نہیں ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up