Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 17 of 115

3۔{لٰکِنِ الرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْھُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآاُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ}

’’ہاں جو اُن میں علم میں پکے اور ایمان والے ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اُس پر جو اے محبوب! تمہاری طرف اُترا اور جو تم سے پہلے اُترا‘‘۔

4۔{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ}

 ’’اے ایمان والو! ایمان رکھو اللّٰہ اور اللّٰہ کے رسول پر اور اُس کتاب پر جو اپنے ان رسول پر اُتاری اور اُس کتاب پر جو پہلے اُتاری‘‘۔

{اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ}

 ’’کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اُس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا‘‘۔

مذکورہ بالا تینوں آیات مبارکہ میں بھی صرف اُس وحی کا ذکر ہے جو آقا ومولیٰ پر نازل ہوئی اور اُس وحی کا جو آپ سے پہلے نازل ہو چکی۔ اگر آپ کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا ہوتا توکسی کتاب یا وحی کا نزول ممکن ہوتا، پھر لامحالہ ان آیات میں اُس کا بھی ذکر ہوتا۔پس ثابت ہوا کہ نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔

{قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰی اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ}

’’یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللّٰہ پر اور اُس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اُتارا گیا ابراہیم و اسماعیل واسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر، اور جو عطا کئے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء کو اپنے رب کے پاس سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے، اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں‘‘۔

7۔ایسا ہی مضمون سورۃ اٰلِ عمران کی آیت ۸۴ میں بھی بیان ہوا ہے۔ ان آیاتِ کریمہ میں رب تعالیٰ کا حکم ہے کہ جو کچھ حضرت محمد مصطفیٰ پر نازل ہوا اور جو کچھ ان سے قبل انبیاء کرام پر نازل ہوا، اس وحی پر ایمان رکھا جائے۔{اُنْزِلَ} اور {اُوْتِیَ} ماضی کے صیغے ہیں یعنی جو کچھ ان کی طرف نازل ہوا اور جو کچھ انہیں دیا گیا یعنی کتب یا صحیفے۔ ان آیات میں مستقبل میں کسی نئے آنے والے نبی پر ایمان لانے کاحکم مذکورنہیں ہے۔

قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو تشریف لائیں گے، وہ سابقہ انبیاء میں شامل ہیں۔ اور شاید اسی حکمت کی بناء پر رب تعالیٰ نے ان کا نام مذکورہ آیات میں بطورِ خاص ذکر فرما کر ان کی امتیازی حیثیت بیان فرمائی ہے۔

یہ آیات بھی ختمِ نبوت کے عقیدے پر بڑی واضح دلیل ہیں۔

{کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ}

’’یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف‘‘۔

{وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ}

’’اور بے شک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف‘‘۔

ان آیات مبارکہ میں بھی واضح طور پر وحی کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک وہ وحی جو رسولِ معظم نورِ مجسم  کی طرف کی گئی اور دوسری وہ وحی جو آپ سے پہلے نبیوں کی طرف کی گئی۔اگر آپ کے بعد کوئی وحی آنا ممکن ہوتی تو اس وحی کا بھی ذکر کیا جاتا۔ چونکہ وحی کے بغیر نبوت ثابت نہیں ہو سکتی خواہ وہ نبوت شریعت کے ساتھ ہو یا شریعت کے بغیر۔ پس ثابت ہوا کہ حضور کے بعد نہ کوئی وحی ہے اور نہ نبی۔

Share:
keyboard_arrow_up