Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 18 of 115

10۔{وَ اِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ}

’’اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا، اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللّٰہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور اُن رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے، اُن کا نام احمد ہے‘‘۔

اس آیت مقدسہ سے واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے سے پہلی کتاب کی تصدیق کی اور پھر اُس رسول کے آنے کی خوشخبری سنائی جو اُن کے بعد آنے تھے جن کا اسمِ گرامی احمد ہے۔

اگر بالفرض سیدنا احمدِ مجتبیٰ محمدِ مصطفی کے بعد بھی کسی نبی کو آنا ہوتا تو وہ اس کا بھی اعلان فرماتے مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ پھر اگر خاتم النبیین کے بعد کسی نبی کو آنا ہوتا تو حضور ہی اس کا اعلان فرما دیتے جبکہ ایسا بھی ہرگز نہیں ہوا۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا میں دوبارہ آنے کی آپ نے خبر دی ہے۔یہ آیت بھی حضور کے آخری نبی ہونے کی عمدہ دلیل ہے۔

11۔{قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا}

’’تم فرماؤ، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللّٰہ کا رسول ہوں‘‘۔

12۔{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا}

 ’’اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے‘‘۔

13۔{وَاَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا}

’’اور (اے محبوب!) ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا اور اس کا گواہ اللہ کافی ہے‘‘۔

ان آیاتِ مبارکہ میں {النَّاس}سے مراد تمام لوگ ہیں۔ وہ جو اُس وقت موجود تھے اور وہ بھی جو قیامت تک پیدا ہونگے، حضور سب انسانوں کی طرف اللّٰہ کے رسول بن کر آئے ہیں۔ آپ کی رسالت کا عام ہونا اور قیامت تک جاری رہنا آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔ اگر بالفرض آپ کے بعد کسی اور نبی یا رسول کا آنا ممکن مانا جائے تو پھر بعض لوگوں کے لئے وہ نبی یا رسول ہوگا اور آپ ان لوگوں کے لئے رسول نہ رہیں گے۔

اس طرح یہ آیات غلط ہوجائیں گی (معاذ اللہ)اور قرآن کا جھوٹا ہونا محال وناممکن ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آپ کے بعد کسی نبی کا آنامحال و ناممکن ہے۔

14۔{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ}

 اس آیت مقدسہ میں واضح بیان ہے کہ رحمتِ عالم کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔اگر آپ کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ممکن ہوتا تو پھر اس پر ایمان لانا ضروری ہوتا جو لوگوں کے لئے نجات ورحمت کا سبب ہوتا، اس طرح حضور تمام جہانوں کے لئے رحمت نہ رہتے۔ نیز اگر رحمت عالم پر ایمان نجات کے لئے کافی نہ ہو تو یہ آپ کی تمام عالمین کے لئے رحمت ہونے والی خصوصیت کے منافی ہو گا جو کہ اس آیت کے خلاف ہے۔ پس آپ کا رحمۃ اللعالمین ہوناآپ کے آخری نبی ہونے کی دلیل ہے۔

15۔{تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا}

’’بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اُتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو‘‘۔

اس آیت مبارکہ میں آقا ومولیٰ  کا یہ وصف بیان ہوا کہ آپ سارے جہانوں کے لئے ڈر سنانے والے ہیں۔یہ آیت بھی ختمِ نبوت کے عقیدے پر واضح دلیل ہے کہ اگر کسی اور نبی کی آمد تسلیم کی جائے تو پھر بعض لوگوں کے لئے وہ ڈر سنانے والا ہوگا اور حضور سارے جہانوں کے لئے ڈرسنانے والے نہ رہیں گے، جو کہ اس آیت کے خلاف ہے۔پس کسی نئے نبی کا آنا ممکن نہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up