16۔{وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَ مَنْ م بَلَغَ}
’’اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں اور جن جن کو یہ پہنچے‘‘۔
اس آیت کریمہ میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ قرآن کریم سے ڈر سنانا صرف ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو زمانۂ نبوی میں موجود تھے۔ بلکہ قیامت تک کے آنے والے لوگوں تک عذاب سے ڈرانے کا یہ پیغام پہنچانا ایمان والوں کی ذمہ داری ہے۔ اب نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ کوئی نئی وحی، لہٰذا یہ قرآن پاک ہی قیامت تک کے لوگوں کے کے لئے ہدایت ونجات کا ذریعہ ہے۔
17۔{وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ}
’’اور یاد کرو جب اللّٰہ نے نبیوں سے ان کا عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اُس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا ‘‘۔
اس آیت مبارکہ سے چند باتیں واضح ہیں۔
اول: یہ کہ یہ خطاب ہر نبی سے فرمایا گیا۔
دوم: یہ کہ جس عظیم الشان رسول کی تائید ونصرت کا تمام انبیاء کرام سے عہد لیا گیکا ،اس کا تمام نبیوں کے بعد میں آنا ضروری ہوا۔ { ثُمَّ}کا لفظ اس پر واضح دلیل ہے۔ لہٰذا اس آیت سے معلوم ہوا کہ جتنے سچے نبی ہونگے، وہ خاتم الانبیاء سے پہلے دنیا میں تشریف لاچکے ہونگے۔اور جو کوئی خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ ضرور جھوٹا ہوگا۔قادیانی کہتے ہیں کہ تم دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا مانتے ہو تو یہ بھی تو ختمِ نبوت کے خلاف ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت دنیا میں حضور سے پہلے ظاہر ہوئی، اس لئے ان کا حضور کے بعد دوبارہ آنا اس آیت کے خلاف نہیں۔
اس مسئلہ کو یوں سمجھ لیجیے کہ شبِ معراج میں مسجدِ اقصیٰ میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام اپنے حقیقی اجسام کے ساتھ جمع ہوئے اور انہوں نے امام الانبیاء ختم الرسل کی امامت میں نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ جب کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے تشریف لانے سے حضور کے خاتم النبیین ہونے میں فرق نہیں آیا تو صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے کیوں فرق آئے گا!
اصل بات یہی ہے کہ تمام انبیاء کرام حضور سے قبل اپنی نبوّتوں کا اعلان فرما چکے تھے ،اور آپ نے آکر اُن کی نبوّتوں کی تصدیق فرمائی۔ اب اگر کسی رسول کا آنا ممکن مانا جائے تو لازم آئے گا کہ یہ وہی آخری رسول ہو جس کے متعلق تمام نبیوں سے عہد لیا گیااور جو تمام نبیوں کی تصدیق کرے، اور یہ قطعاً باطل اور محال ہے۔
پس ثابت ہوا کہ حضور سب نبیوں میں آخری نبی اوررسول ہیں۔
18۔{وَ نَزَّلْنَا عَلَیْک الْکِتٰبَ تِبْیٰنًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ }
’’اور ہم نے تم پر یہ قرآن اُتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو‘‘۔
یہ آیت مبارکہ ختم نبوت کے عقیدہ پر لاجواب دلیل ہے۔ قرآن مجید میں ہر چیز کا روشن بیان ہے مگر اس میں خاتم النبیین کے بعد کسی نبی کے آنے کا کوئی ذکر نہیں۔
19۔{مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ }
’’ہم نے اس کتاب میں کچھ اُٹھا نہ رکھا‘‘۔
’’یعنی جملہ علوم اور تمام مَا کَان وَمَا یکون(جو کچھ ہوچکا اور جو آئندہ ہوگا)کا اس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا علم اس میں ہے‘‘۔

