اس مضمون کی قرآن مجید میں متعدد آیات موجود ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن عظیم میں ہر چھوٹی بڑی چیز کا واضح بیان ہے اورسورۃ البقرۃ میں یہ فرمایا گیا:
20۔{وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ}
’’اور (یہ رسول) تمہیں کتاب اورپختہ علم سکھاتے ہیں اور تمہیں وہ سکھاتے ہیں جس کا تمہیں علم نہ تھا‘‘۔
اس سے ثابت ہوا کہ آقا ومولیٰ نے قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ کی صورت میں امت کو دین کا ضروری علم عطا فرمادیا۔
یہاں تک کہ بخاری ومسلم کی بعض احادیث میں مذکور ہے کہ غیب بتانے والے آقا کریم نے قیامت تک آنے والے تمام فتنوں کابھی ذکر فرمادیا نیز ایک نشست میں تمام جنتیوں اور جہنمیوں کے نام بھی بیان فرما دیے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بالفرض کوئی نیا نبی آئے گا توکیا وہی علوم لوگوں تک پہنچائے گا جو آقا ومولیٰ پہلے ہی ارشاد فرما چکے اور جو ائمہ دین سکھاتے آرہے ہیں۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو اُس نئے نبی کا آنا بے کار ہوا۔
اوراللّٰہ تعالیٰ بے مقصد کام کرنے سے پاک ہے۔ اگر کوئی کہے کہ وہ نیا نبی ایسے علوم لائے گا جو قرآن میں نہیں ہیں تو پھر
(معاذ اللہ) یہ آیت کاذب ٹھہرے گی اور قرآن عظیم کا جھوٹ ہونا محال ہے۔ پس لازم آیا کہ خاتم الانبیاء کے بعد کسی نئے نبی کا آنا محال ہے۔
21۔{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوااللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ}
’’اے ایمان والو! حکم مانو اللّٰہ کا اور حکم مانو رسول کا، اور اُن کا جو تم میں حکومت والے ہیں‘‘۔
اس آیت مقدسہ میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کے بعد اسلامی حکومت کے سربراہ کی اطاعت کاحکم دیا ہے جبکہ وہ اللّٰہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے۔
یہ بھی واضح رہے کہ مسلمان حاکم کی اطاعت نہ کرنا گناہ ہے ، کفر نہیں مگر نبی کی نبوت کا انکار کفر ہے۔اگر خاتم النبیین کے بعد بھی کسی نبی کا آنا ممکن ہوتا تو یقیناً قطعی طور پر واضح انداز میں اس کی اطاعت کا بھی ذکر کیا جاتا۔ کیا یہ بات حیر ت انگیز نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ ایک مسلمان حاکم کی اطاعت کا تو اس قدر واضح انداز میں حکم ارشاد فرمادے اور ایک آنے والے’’ نبی‘‘ کی اطاعت کا کوئی ذکر ہی نہ فرمائے کہ جس کا انکار کرنے والے کافر ہو سکتے تھے۔
ثابت ہوا کہ آقا ومولیٰ کے بعد قیامت تک کسی نئے نبی کاآنا ممکن ہی نہیں۔
22۔{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا}
’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں واضح طور پر فرما دیا گیا کہ تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین مکمل کردیا گیا۔اب تمہارے پاس اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات آچکاہے جس کے بعدکسی نئے قانون اور نئی شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔’’نعمت‘‘ سے مراد نبوت یا وحی ہے ۔ یعنی تم پر نبوت تمام کردی۔ پس اب کسی نئے نبی کی آمد ممکن نہیں۔ قیامت تک کے تمام مسائل کا حل دینِ اسلام میں موجودہے۔جب دین مکمل کر دیا گیا اور قیامت تک کسی نئے دین کی ضرورت نہیں توپھر کسی نئے نبی کی ضرورت کیونکر ہو سکتی ہے۔پس کوئی نیا نبی ماننا اس آیت کا انکارکرنا ہے۔

