Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 21 of 115

23۔{وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ وَمَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًا} 

’’اور جو اللّہ اور اس کے رسول کا حکم مانے، اللّٰہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں، اور جو پِھر جائے گا، اُسے دردناک عذاب فرمائے گا ‘‘۔

اس مضمون کی قرآن مجید میں درجنوں آیات موجود ہیں جن میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جو اللّٰہ اور اس کے رسول اپر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے، اللّٰہ کریم اسے جنت عطا فرمائے گا۔

یہ بھی ارشاد ہوا،

24۔{قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ}

’’اے محبوب! تم فرما دو کہ لوگو! اگر تم اللّٰہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ، اللّٰہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا‘‘۔

اس ایمان افروز آیت میں واضح لفظوں میں فرما دیا گیا کہ جو کوئی نبی کریم اکی اتباع کرے گا، اس کی مغفرت ہوجائے گی۔گویا نجات موقوف ہے خاتم الانبیاء کی محبت واطاعت پر ۔اب اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے اور کہے کہ ’’مجھے نہ ماننے والے کافر اور جہنمی ہیں‘‘۔(جیسا کہ مرزا کذاب نے جابجا لکھا) اب دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔

ایک یہ کہ اس کذاب کا دعویٰ درست مان لیا جائے، یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ اس صورت میں قرآن مجید(معاذ اللہ)جھوٹا قرار پائے گا کہ اس نے بتایا،نجات نبی کریم کی اتباع میں ہے اور ایسے لوگوں کے لئے جنت کا وعدہ ہے جبکہ نجات مرزا کذاب کی اطاعت میں تھی، اس کا ذکر ہی نہ کیا، اور مسلمان قرآن وحدیث پر عمل کرکے جہنمی ہوتے چلے گئے۔

اس طرح اللّٰہ تعالیٰ کا مسلمانوں کو (معاذ اللہ)دھوکہ دینا لازم آئے گا جوکہ قطعی طور پر محال و نا ممکن ہے۔

لامحالہ دوسری صورت ہی حق ہے وہ یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ سچا ہے، اس کی کتاب سچی ہے ، اس کے پیارے رسول سچے ہیں اور مرزا قادیانی دجال اور جھوٹا ہے۔آقا ومولیٰ کی محبت واطاعت میں نجات ہے اور آپ کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ممکن نہیں۔

25۔{وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ ط وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا}

’’اور جو حق راستہ واضح ہوجانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے، اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے، ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اُسے دوزخ میں داخل کریں گے، کیا ہی بُری جگہ ہے پلٹنے کی‘‘۔

اس آیت کریمہ میں فرما دیا گیا کہ حق راستہ وہی ہے جو رسول معظم بتائیں اور جس پر مسلمان گامزن ہوں۔کثیر احادیث گواہ ہیں کہ آقا کریم  آخری نبی ہیں۔ صحابہ ، تابعین، تبع تابعین سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ حضورِ اکرم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، نہ ظلی نہ بروزی۔ جو لوگ ’’ختم نبوت ‘‘کے عقیدے کا انکار کریں گے وہ اس آیت مقدسہ کی رُو سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور جہنم بہت بُرا ٹھکانا ہے۔

ختمِ نبوت اور ائمہ لغت: نبی کریم نے قرآن کریم کے الفاظ کو جس طرح تلاوت فرمایا ہے، اس فن کا نام علمِ قرأت ہے جو صحابہ کرام ثکے ذریعے امت تک پہنچا ہے۔ لفظ {خاتم} کو آقا و مولیٰ نے دو طرح تلاوت فرمایا ہے۔

۱… {خَاتَمَ}یعنی تاء پر زبر(فتح) کے ساتھ، اور

۲… {خَاتِمَ} یعنی تاء پر زیر(کسرہ) کے ساتھ۔

اگر{خَاتَمَ} پڑھا جائے تو اس کے معنی ہیں کہ آپ آخری ہیں اور آپ کے ذریعے سے انبیاء کی آمد پر مہر لگا کر یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔

اور اگر {خَاتِمَ}پڑھا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ سب نبیوں کے آخر میں تشریف لائے اور آپ نے انبیاء کے آنے کا سلسلہ ختم کردیا۔ گویا جس طرح بھی پڑھا جائے، معنی’’آخری نبی‘‘ ہی بنتا ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up