عقیدے کے ثبوت کے لئے لغت کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف کتاب وسنت کی راہنمائی کافی ہوتی ہے۔
ہمارے نزدیک قرآن مجید کے الفاظ کے وہی معانی ہیں جو صاحبِ قرآن، رسولِ معظم نے ارشاد فرمائے ہیں،البتہ قرآن سمجھانے کے لئے لغت کے حوالے تائید کے طور پر پیش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
چونکہ مرزائی لفظ’’خاتم‘‘کا خود ساختہ معنی کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس لئے ہم ان ائمہ لغت کے اقوال پیش کریکں گے جو قادیانی فتنے کے ظاہر ہونے سے کئی سو سال پہلے گزرے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ان علماء نے مذہبی تعصب کی وجہ سے یہ معانی لکھے ہیں اور شاید یہ حوالہ جات کسی منصف مزاج،حق کے متلاشی کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن جائیں۔
1۔لغت کے امام، علامہ حماد بن اسماعیل الجوہری (م۳۹۳ ھ) لکھتے ہیں، {خَتَمَ اللّٰہُ لَہٗ بِخَیْرٍ}’’اللہ اُس کا خاتمہ بالخیر کرے‘‘
{اَلْخَاتِمُ وَالْخَاتَمُ بِکَسْرِالتَّاءِ وَفَتْحِہَا وَالْخِتَامُ وَالْخَاتَامُ کُلُّہٗ بِمَعْنًی وَ خَاتَمَۃُ الشَّیْءِ اٰخِرُہٗ}
’’یعنی خاتِم، خاتَم، ختام اور خاتام سب کے معنی ایک ہی ہیں اور کسی چیز کے خاتمہ سے مراد اُس چیز کا آخر ہے‘‘۔
2۔لغت کے ماہر ،علامہ راغب اصفہانی (م ۵۰۶ ھ)لکھتے ہیں،
{خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ…لِاَنَّہٗ خَتَمَ النُّبُوَّۃَ اَیْ تَمَّمَہَا بِمَجِیْئِہٖ}
’’یعنی آپ خاتم النبیین اس لئے ہیں کہ آپ نے تشریف لاکر نبوت ختم کردی یعنی مکمل فرمادی‘‘۔
3۔لغت کے ایک اور امام، علامہ ابن منظورمصری (۷۱۱ ھ) رقمطراز ہیں، {خِتَامُ الْوَادِیْ: اَقْصَاہُ وَخِتَامُ الْقَوْمِ وَخَاتِمُہُمْ وَخَاتَمُہُمْ اٰخِرُہُم}
’’وادی کے آخری کنارے کو خِتَامُ الْوَادِیْ کہتے ہیں۔ خِتام، خاتِم اور خاتَم کا معنی ہے قوم کا آخری فرد‘‘۔ مزید لکھتے ہیں،
{وَمُحَمَّدٌ ا خَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَالْخَاتِمُ وَالخَاتَمُ مِنْ اَسْمَاءِ النَّبِیِّ ا وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ اَیْ اٰخِرُہُمْ}
’’(اسی طرح)سیدنا محمدا خاتم ُ الانبیاء ہی خاتِم اور خاتَم نبی کریم کے ناموں میں سے ہیں خاتم النبیین کا معنیٰ ہے سب نبیوں میں آخری‘‘۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ صفحہ ۱۵۶ پر خود خاتم الاولاد کا معنیٰ ”آخری اولاد“ لیا ہے کہ جس کے بعد کوئی اور اولاد نہ ہو۔ ان معانی کی تائید میں اہلِ تفسیر اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں، {خِتٰمُہٗ مِسْکٌ}
علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں،
{اَیْ اٰخِرُہٗ وَعَاقِبَتُہٗ مِسْکٌ}مفہوم یہ ہے کہ جنتیوں کو جو مشروب پلایا جائے گا اس کے آخر میں انہیں کستوری کی خوشبو آئے گی۔ اگر اس کا معنی یہ کیا جائے کہ اس مشروب پر کستوری کی مہر لگی ہوئی ہے تب بھی حرج نہیں جیسا کہ بعض مفسرین نے لکھا ہے۔
{خَتَمَ} کا ایک معنی مہر لگاناہم بھی پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
سورۃالبقرۃ کی آیت ۷ ملاحظہ فرمائیں۔ {خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ}
’’اللّٰہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی‘‘۔
علامہ ابن منظور،لسان العرب میں لکھتے ہیں،’’{خَتَمَ}اور {طَبَعَ} کے لغت میں ایک ہی معنی ہیں اور وہ یہ کہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ کر مضبوطی سے بند کردینا کہ اس میں باہر سے کسی چیز کا داخل ہونا ممکن نہ رہے‘‘۔
مرزائیوں کا باطل استدلال: مرزائی یہ باطل استدلال پیش کرتے ہیں کہ {خَاتَمْ} کا معنی مہر لگانے والا ہے لہٰذا حضور جس کی نبوت پر مہر لگا دیں وہ نبی ہوجاتا ہے۔ پس آپ نے مرزا (کذاب) کی نبوت پر مہر لگا دی۔{جھوٹوں پر اللّٰہ کی لعنت ہو}

