Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 23 of 115

ہم ثابت کر چکے ہیں کہ مذکورہ آیت میں خاتم النبیین کا معنیٰ’’ آخری نبی‘‘ ہے۔ کوئی قادیانی کسی حدیث میں خواہ ضعیف ہی ہو ، یا صحابہ و تابعین کے کثیر آثار میں سے کوئی ایک قول دکھا دے جس سے خاتم النبیین کے یہ معنیٰ ظاہر ہوتے ہوں کہ حضور کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔ اس طرح تو خاتم القوم کا معنیٰ ہوگا کہ اُس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور خاتم الاولاد کا معنیٰ ہوگا کہ اس کی مہر سے اولاد بنتی ہے۔

کوئی عقل مند اِن الفاظ کا یہ مفہوم تسلیم نہیں کر سکتا۔ ثابت ہوا کہ قادیانیوں کا خود ساختہ مذکورہ مفہوم قرآن مجید کی کھلی تحریف ہے۔ قادیانی کہتے ہیں ، خاتم مہر کو کہتے ہیں ، جب نبی کریم مہر ہوئے تو اگر ان کی امت میں کسی قسم کا نبی نہیں ہو گا تو وہ مہر کس طرح ہوئے یا مہر کس پر لگے گی۔

اگر بالفرض دوسرا معنیٰ بھی مراد لیا جائے تو مرزائیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔یہ کم فہم مہر سے کسی افسر کی یا ڈاک والی مہر سمجھے کہ جیسے کسی کاغذ یا لفافے پر مہر لگائی اور اسے آگے بھیج دیا ۔حالانکہ اس مہر سے مراد کسی چیز کو (SEAL)یا بندکرنا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ پہلے زمانے میں بادشاہ وغیرہ اپنے خطوط کو کسی کپڑے کی تھیلی میں رکھ کر اسے سربمہر کروادیتے تھے تاکہ کوئی اس میں ردوبدل نہ کرسکے۔ اگر کوئی ایسا کرنا چاہے تو اسے پہلے مہر توڑنا پڑے گی اور جب وہ مہر توڑے گا توپکڑا جائے گا اورسزا پائے گا۔

اب اگر ’’خاتم‘‘ کا معنی مہر کیا جائے تو خاتم النبیین کا مفہوم یہ ہوگا کہ حضور کو مبعوث فرما کر اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کا سلسلہ ختم فرما دیا اور اس پر مہر لگا دی تاکہ کوئی دجال اور کذاب ،انبیاء کے سلسلے میں داخل نہ ہوسکے۔

اب جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ گویا ختمِ نبوت کی اس مہر کو توڑے گا، اور جب مہر توڑے گا تو پکڑا جائے گا۔ پھر وہ دنیا میں ذلیل ورسوا ہوگا اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنے گا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں:

آتے رہے انبیاء کَمَا قِیْلَ لَھُمْ

وَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم

یعنی جو ہوا دفتر تنزیل تمام

آخر میں ہوئی مہر کہ اَکْمَلْتُ لَکُمْ

باب دوم احادیث اور ختم نبوت:

علماءِ حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسئلۂ ختمِ نبوت کی احادیث متواتر ہیں۔ حدیثِ متواتر اُس حدیث کو کہا جاتا ہے جسے آقا ومولیٰ سے روایت کرنے والے آپ  کے زمانۂ مبارک سے لے کر آج تک اس قدر کثیر ہوں کہ کسی خلافِ واقعہ بات پر ان کا باہم اتفاق کر کے جھوٹ بولنا محال ہو۔

امت کا اجماع ہے کہ متواترحدیث پرایمان لانا ، قرآن مجید پر ایمان لانے کی طرح فرض اور اس کا انکارکفر ہے۔ کئی علماء نے حدیثِ نبوی {لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ}کو بھی متواتر قرار دیا ہے۔

علامہ ابن کثیر رقمطراز ہیں، ’’رسولِ معظم کے آخری نبی ہونے کے متعلق احادیثِ متواترہ وارد ہوئی ہیں جنہیں صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت نے بیان کیا ہے‘‘۔

علامہ سید محمود آلوسی حنفی رحمہ اللہ تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں،

’’نبی کریم کا خاتم النبیین ہونا اُن مسائل میں سے ہے جنہیں قرآن مجید نے صریحاً بیان کیا اور احادیثِ مبارکہ نے ان کی وضاحت فرما دی اور اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔ لہٰذا اس کا منکر کافر ہے اور اگر اس پر اصرار کرے تو قتل کیا جائے‘‘۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں کسی بھی جگہ یا کسی بھی حدیث مبارکہ میں نبوت کی کوئی قسم بیان نہیں ہوئی۔ مرزا کذاب نے خود سے ظلی، بروزی، امتی نبی وغیرہ قسم کی اصطلاحیں گھڑ لیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر بالفرض قادیانیوں کے بقول نبوت کی ظلی،بروزی وغیرہ قسمیں ہیں تو بھی ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہوچکا۔

Share:
keyboard_arrow_up