Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 24 of 115

اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے غیب کا علم جاننے والے اور اُ س کے اِذن سے غیب بتانے والے آقا کریم کی چند احادیث مقدسہ پیشِ خدمت ہیں۔

1۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْاَنْبِیَآءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلاَّ وُضِعَتْ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃُ. قَالَ ا فَاَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ.

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسولِ معظم نے فرمایا، ’’میری اور مجھ سے پہلے نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے نہایت حسین اور خوبصورت گھر بنایا مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس مکان کے اردگرد پھرتے، اس کی تعریف کرتے اور کہتے، ایک اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟ آقا ومولیٰ نے فرمایا، وہ اینٹ میں ہوں اور میں آخری نبی ہوں‘‘۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ سارا قصرِ نبوت ہی حسین وجمیل ہے۔ خاتم الانبیاء کی تشریف آوری سے اس کا حسن وجمال کامل واکمل ہوگیا اور اب اس میں کسی مزید اینٹ کے لگانے کی کوئی جگہ باقی نہیں۔اس حدیث پاک میں آقا ومولیٰ نے نہایت پُرحکمت انداز میں اپنا آخری نبی ہونا بیان فرما دیا ہے۔

غور فرمائیے کہ جب کوئی عمارت حسن وجمال کے ساتھ صرف مکمل ہی نہیں بلکہ کامل و اکمل ہو جائے تو پھر اس میں مزید کوئی اینٹ کس طرح لگائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جب انبیاء کرام کا سلسلہ مکمل ہوگیا اور خاتم النبیین تشریف لا چکے پھران کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ، ممکن نہیں رہا۔

عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَآءِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَاَتَمَّہَا وَاَکْمَلَہَا اِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَدْخُلُوْنَہَا وَیَتَعْجَّبُوْنَ مِنْہَا وَیَقُوْلُوْنَ لَوْلاَ مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ. قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فَاَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِیَاءَ.

حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا،’’میری مثال اور مجھ سے پہلے نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے ایک گھر بنایا اور اس کے کامل اور مکمل کرنے میں کوئی کمی نہ رہنے دی مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب سے کہتے، یہ ایک اینٹ کیوں چھوڑ دی؟

نورِ مجسم  نے فرمایا، میں اس اینٹ کی جگہ آیا ہوں اور میں نے انبیاء کی آمدکا سلسلہ ختم کردیا ہے‘‘۔

اس مثال سے ہرگز یہ مفہوم نہیں کہ سابقہ انبیاء کرام کی شریعتیں غیر مکمل اور ناقص تھیں ۔ یقیناً ہر نبی کی شریعت اس کے زمانے کے اعتبار سے کامل تھی، فرق یہ ہے کہ وہ صرف اپنے اپنے زمانوں کے لئے تھیں اور خاتم النبیین کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کرنے سے قبل ۱۸۹۵ء میں ا س حدیث کاخود یہی مفہوم لکھا تھا،’’وہ انسانِ اکمل جو آفتابِ روحانی ہے جس سے نقطہ ارتفاع کا پورا ہوا، اورجو دیوارِ نبوت کی آخری اینٹ ہے، وہ حضرت محمد ہیں‘‘۔

مرزا  نے اس تحریر کے چھ سال بعد ۱۹۰۱ء میں قرآن وحدیث کے برخلاف نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا غیر تشریعی نبی ہے۔ وہ یہ بتائیں کہ مذکورہ حدیث میں قصرِ نبوت کی تکمیل میں جن انبیاء کا ذکر ہے ان میں تمام غیر تشریعی نبی شامل ہیں یا نہیں؟ یقیناً ہیں اور مرزا اُن میں نہیں، تو پھر مرزا نبی کیسے ہوسکتاہے؟؟

Share:
keyboard_arrow_up