Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 25 of 115

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ کَانَتْ بَنُوْاِسْرَآئِیْلَ تَسُوْسُہُمُ الْاَنْبِیَاءُ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَآءُ فَیَکْثُرُوْنَ.

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا نے فرمایا، ’’ بنی اسرائیل پر ان کے نبی حکمرانی کرتے تھے۔ جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا تو اس کی جگہ دوسرے نبی تشریف لے آتے۔ اور اس میں شک نہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، ہاں میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بکثرت ہوں گے‘‘۔

یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ نبی کریم نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کی خبر دے دی لیکن آپ نے کسی نئے نبی کے آنے کی خبر نہیں دی اگر کسی نئے نبی کو آنا ہوتا آقا و مولیٰ ضرور اس کی بھی خبر دیتے،

پس ثابت ہوا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

اس حدیث مبارکہ میں {لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ} کے الفاظ بھی آپ کے بعد ہر قسم کی نبوت کی نفی کررہے ہیں خواہ وہ ظلی ہو یا بروزی۔

عَنْ عُقْبَۃَ بِنْ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا لَوْکَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔

حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم نے فرمایا،

’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے‘‘۔

اس حدیث مبارکہ کا واضح مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر میں اتنی ساری خوبیاں ہیں کہ یہ منصبِ نبوت کے لائق ہیں۔مگر نبوت کااہل ہونے کے باوجود یہ نبی نہیں ہو سکتے کیونکہ میرے بعد کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا۔

یہ نکتہ بھی توجہ کے لائق ہے کہ جب سیدنا عمر میں یہ اہلیت تھی تو سیدنا ابوبکر  میں یقیناً بدرجۂ اولیٰ ہوگی۔

سلمہ بن الاکوع سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ نے فرمایا،

ابوبکر سب لوگوں سے افضل ہیں مگر یہ ممکن نہیں کہ وہ نبی ہو سکیں۔

مرزا کذاب کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ اس نے حضور کی اس قدر اطاعت کی کہ اس کا وجود رسول کریم کا وجود بن گیا

(معاذ اللہ)۔مرزائی بتائیں کہ جب سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما جن سے زیادہ حضور کی اطاعت کرنے والا کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور جن کی فضیلت پر قرآن وحدیث گواہ ہیں، وہ نبی نہیں ہو سکتے توکیا مرزا کذاب نبی ہو سکتا ہے جس کا اخلاق نہ کردار،جو تمام عمر انگریزوں کی چاپلوسی کرتا رہا۔

اس پر مرزا کی اپنی تحریریں اگلے صفحات میں پیش کی جائیں گی۔ قادیانی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم مرزا کو غیر تشریعی نبی مانتے ہیں۔ ذرا سوچئے! سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اگر بالفرض نبی ہوتے تو غیر تشریعی نبی ہی ہوتے۔ نبی کریم نے جب اُن کے نبی ہوسکنے کی نفی فرما دی تو گویا یہ اعلان فرما دیا کہ ان کے بعد کسی غیر تشریعی نبی کا آنا بھی ہرگز ممکن نہیں ۔

عَنْ سَعَدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ خَلَّفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا تُخَلِّفُنِیْ فِی النِّسَآءِ وَالصِّبْیَانِ۔ فَقَالَ اَمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہٰرُوْنَ مِنْ مُوْسٰی غَیْرَ اَنَّہٗ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ۔

حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسولِ معظم  نے حضرت علی کو غزوہ تبوک کے وقت مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا۔ حضرت علی نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ا! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ آقاومولیٰ نے فرمایا، اے علی! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔علیہما السلام

Share:
keyboard_arrow_up