حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک نسبت یہ تھی کہ وہ ان کے بھائی تھے۔
سیدنا علی بھی نبی کریم کے چچازاد بھائی تھے۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی ایک اہم نسبت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کے غیر تشریعی نبی تھے۔
قادیانی مرزا کذاب کو غیر تشریعی نبی کہتے ہیں۔ ممکن تھا کہ اس حدیث مبارکہ سے سیدنا علی کے متعلق کسی دل میں ایسا شبہ پیدا ہوتا۔لہٰذا آقا ومولیٰ نے اس شبہ کو صاف الفاظ میں رد فرمادیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، نہ تشریعی نہ غیر تشریعی۔
اب مرزائی بتائیں کہ جب نبی کریم کے اہلبیت میں شیرِ خدا مولا علی کو نبوت نہ دی گئی کہ جن کا علم اور تقویٰ بے مثل ہے، صرف اس لئے کہ ختمِ نبوت کا تاج تو خاتم النبیین کے سرِ اقدس پر سجایا جا چکا ، تو پھر مرزا کذاب کو نبی ماننا، اللّٰہ اور اس کے رسول سے کفر اوربغاوت ہے یا نہیں؟؟
6۔عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلٰثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ ۔
حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے رسول نے فرمایا، ’’میری امت میں تیس نہایت جھوٹے لوگ (کذّاب)پیدا ہوں گے۔ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں‘‘۔
اس حدیث پاک میں چند باتیں غور طلب ہیں۔ ؎
اول: اس امت میں تیس کذاب پیدا ہونگے۔{فِیْ اُمَّتِیْ}کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ وہ میرے امتی ہونے کے بھی دعویدار ہونگے۔قادیانی بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم حضور کو نبی مانتے ہیں لہٰذا ہم بھی ان کے امتی ہیں۔یہ نرا دھوکہ ہے۔
دوم:اگر بالفرض آقا ومولیٰ کے بعد کسی سچے نبی نے آنا ہوتا تو آپ فرمادیتے، میرے بعد کچھ سچے نبی آئیں گے اور کچھ جھوٹے بھی ،جن کی پہچان یہ ہوگی وغیرہ۔ مگر آقاکریم نے فرمادیا کہ جوبھی نبوت کا دعویٰ کرے گا، جھوٹا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ آپ سے پہلے مبعوث ہوچکے اور اب وہ آپ کے امتی کے طور پر آئیں گے اس لئے ان کا ذکر علیحدہ احادیث میں فرمادیا۔
سوم: جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ وہ نبی ہے، یہی بات اس کے کذاب ہونے کے لئے کافی ہے۔کیونکہ حضورِ اکرم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ نہ حقیقی نہ ظلی، نہ تشریعی نہ غیر تشریعی، نہ مستقل نہ غیر مستقل۔
7۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ لاَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبٌ مِنْ ثَلاَ ثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا نے فرمایا، ’’قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو جائیں۔ ان میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ اللّٰہ کا رسول ہے‘‘۔
ان احادیث مبارکہ سے واضح ہے کہ جانِ کائنات سیدِ عالم کے بعد جھوٹے دجال ظاہر ہونگے جن کی نشانی یہ ہے کہ وہ نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کریں گے۔ان احادیث میں اُن جھوٹوں کی تعداد تیس بیان ہوئی ہے جنہیں قوت حاصل ہوگی ورنہ نبوت کے جھوٹے دعویدارتو کئی ہوئے ہیں۔
اب مرزا کذاب کے چند جھو ٹے دعوے ملاحظہ فرمائیں۔وہ لکھتا ہے، ’’خدا کی قسم! اللّٰہ نے میرا نام نبی رکھا ہے‘‘۔’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا‘‘ (نعوذباللّٰہ)

