مرزا کذاب نے جھوٹی وحی بنانے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ اس نے حبیبِ کبریاء پر نازل شدہ آیات کو بھی اپنے اوپر منطبق کیااور بہتان لگایا کہ یہ اللّٰہ نے مجھ پر الہام کیا ہے (معاذ اللہ)۔
{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ} {یٰسٓ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ}
اسی کتاب میں صفحہ ۳۱۸ پر مرزا نے لکھا کہ جھوٹ بولنا شیطان اور لعنتی آدمی کاکام ہے۔ قارئین خودہی فیصلہ کریں کہ مرزا اور مرزائی کیا ہیں!!ہم تو انہیں اس لئے کذاب کہتے ہیں کہ حضور نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو کذاب فرمایا ہے۔
8۔عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ اَنَّ النَّبِیَّ ا قَالَ اَنَا مُحَمَّدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِیَ الَّذِیْ یُمْحٰی بِیَ الْکُفْرُ وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی عَقِبِیْ وَاَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ۔
حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم نے فرمایا، ’’میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعے اللّٰہ کفر کو مٹائے گا، میں حاشر ہوں کہ لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہو گا، اور میں عاقب ہوں ۔ اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو‘‘۔
9۔عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا یُسَمِّیْ لَنَا نَفْسَہٗ اَسْمَآءً فَقَالَ اَنَا مُحَمَّدٌ وَ اَحْمَدُ وَالْمُقَفِّیْ وَالْحَاشِرُ وَ نَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَ نَبِیُّ الرَّحْمَۃِ۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم نے ہمارے لئے اپنے کئی نام بیان کئے۔ اور آپ نے فرمایا، ’’میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں مقفٰی ہوں ، اورمیں حاشر ہوں، اور میں نبی التوبہ اور نبی الرحمۃ ہوں‘‘۔
ان دو احادیث مبارکہ میں آقا ومولیٰ نے اپنے بعض مشہور نام ارشاد فرمائے ہیں۔ ان میں’’مقفیٰ‘‘ اور ’’عاقب‘‘ دونوں نام ختم نبوت پر روشن دلیل ہیں۔ ان دونوں کے معنی ہیں ،
’’سب سے آخر میں آنے والا‘‘۔ یہ معنی خود خاتم ُالانبیاء نے بیان فرما کر جھوٹی نبوت کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند فرمادیا ہے۔
’’مقفیٰ‘‘کا یہی معنیٰ قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔
ارشاد ہوا۔
{وَقَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ}
’’اور ہم اُن نبیوں کے پیچھے اُن کے نشانِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے‘‘۔
ثابت ہوا کہ مقفیٰ کا معنیٰ ’’آخر میں آنے والا‘‘ہے۔
10۔عَنْ اَنَسٍ بِنْ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلاَ رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلاَ نَبِیَّ۔ قَالَ فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ لٰکِنِ الْمُبَشِّرَاتِ۔ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ رُؤْیَا الْمُسْلِمِ وَہِیَ جُزْءٌ مِنْ اَجْزَاءِ النُّبُوَّۃِ۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جانِ دوعالم نے فرمایا، ’’بیشک رسالت ونبوت ختم ہو گئی ہے، نہ میرے بعد کوئی رسول آئے گا اور نہ نبی۔
راوی کہتے ہیں، یہ سن کر لوگوں کو رنج ہوا۔ تو آقا ومولیٰ نے فرمایا، لیکن بشارات باقی ہیں۔صحابہ نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ! بشارات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا، مسلمان کا خواب، اور سچا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ غیب بتانے والے آقا کریم نے کس قدر واضح الفاظ میں ارشادفرما دیا کہ :
’’بیشک رسالت ونبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ نبی‘‘۔ کسی بچے کوبھی یہ الفاظ سنائے جائیں تو اسے ختم نبوت کا عقیدہ سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے گی۔ افسوس ان لوگوں پر! جو قرآن وحدیث کے واضح دلائل وبراہین کے باوجود انگریزوں کے پروردہ مرزا کذاب کو نبی ماننے پر تُلے ہوئے ہیں۔

