Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 28 of 115

حدیث پاک کے دوسرے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ نیک اورصالح مسلمانوں کو اچھے اور سچے خواب دکھائے جاتے ہیں جن کے سبب وہ مزید قربِ الٰہیٰ کے لئے عبادت میں محنت کرتے ہیں۔

سچے خواب کو نبوت کا ایک جزء فرمایا گیاکیونکہ یہ انسان اپنی مرضی کے مطابق نہیں دیکھ سکتا، یہ تو رب کی عطا سے نبوت کا فیض ہے۔ کوئی نا سمجھ اس سے یہ استدلال نہ کرے کہ جب اچھا اور سچا خواب نبوت کا حصہ ہے تو پھر نبوت ختم تو نہیں ہوئی۔ یہ خیال بالکل لغو ہے۔ کسی کے پاس جزء ہو تو اس سے کل کا ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔

مثلاً کسی کے پاس اینٹ ہو تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے پاس مکان ہے حالانکہ اینٹ مکان کا ایک جزء ہے۔ اسی طرح اچھا خواب دیکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسے نبوت مل گئی۔اسی لئے حضور  نے ختم نبوت کا عقیدہ پہلے بیان فرمایا اور نبوت کے فیض کا ذکر بعد میں فرمایا۔

11۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ یَعْنِیْ اِصْبَعَیْنِ۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ومولیٰ نے فرمایا، ’’میں اور قیامت دونوں، اِن انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں‘‘۔

مفہوم یہ ہے کہ جس طرح دو انگلیاں جو ساتھ ساتھ ہوں ، ان کے درمیان کوئی تیسری انگلی نہیں ہوتی اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ سے قبل نبوت کے مقام پر فائز ہوئے اس لئے ان کا آنا نئے نبی کے طور پر نہیں بلکہ آپ کے امتی کے طور پر ہوگا۔

12۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْدَ اَنَّ کُلَّ اُمَّۃٍ اُوْتِیَتِ الْکِتَابُ مِنْ قَبْلِنَا وَاُوْتِیْنَاہُ مِنْ بَعْدِہِمْ۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسولِ معظم نے فرمایا، ’’ہم سب سے آخر میں (دنیا میں)آئے ہیں اور قیامت میں سب سے پہلے (جنت میں داخل)ہوں گے۔ البتہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں سب سے آخر میں دی گئی ‘‘۔

حضرت حذیفہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں، ’’ہم دنیا والوں میں سب سے آخری ہیں لیکن قیامت میں سب سے پہلے ہونگے‘‘۔

اس حدیث مبارکہ سے بھی واضح ہے کہ خاتم النبیین کی امت سب سے آخری امت ہے کیونکہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی امت۔

13۔عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ا اِنَّہٗ قَالَ اِنِّیْ عِنْدَ اللّٰہِ مَکْتُوْبٌ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَاِنَّ اٰدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَتِہٖ۔

 حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا کریم نے فرمایا، ’’میں اللّٰہ تعالیٰ کے پاس آخری نبی لکھا ہوا تھا جبکہ اُس وقت آدم علیہ السلام کا خمیر تیار نہ ہوا تھا‘‘۔

یہ حدیث بھی نبی کریم کے آخری نبی ہونے پر واضح دلیل ہے مگر قادیانی کہتے ہیں کہ جب حضور پہلے ہی خاتم النبیین تھے تو کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء تو بعد میں آئے اور ان کے آنے سے آپ کے خاتم النبیین ہونے میں فرق نہیں آیا۔

تو مرزا قادیانی کے آنے سے کیسے فرق پڑے گا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہیں بلکہ افضل نبی ہے۔ قادیانیوں کا مذکورہ استدلال باطل اور مردود ہے۔

ایک تو اس بناء پر کہ خاتم النبیین کے معنی ہم نے نہیں بلکہ خود رسولِ معظم نے آخری نبی ارشاد فرمائے ہیں۔

{لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ}اور اس جیسے الفاظ اس کا روشن ثبوت ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up