دوم یہ کہ حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں، ’’میں اللّٰہ تعالیٰ کے پاس آخری نبی لکھا ہوا تھا‘‘۔
یعنی سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ یہ فیصلہ فرما چکا تھا کہ حضور آخری نبی ہیں۔لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق آپ سب نبیوں کے آخر میں تشریف لائے۔اب اگر کوئی خود کو نبی کہتا ہے ، وہ دجال اور کذاب ہے۔
14۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا.اِذْہَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ . اِذْہَبُوْا اِلٰی مُحَمَّدٍ ا فَیَاْتُوْنَ مُحَمَّدًا ا فَیَقُوْلُوْنَ یَا مُحَمَّدُ ا اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَخَاتِمُ الْاَنْبِیَاءِ. اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ ۔
حضرت ابوہریرہ سے ایک طویل روایت میں ہے کہ ایک دن آقا ومولیٰ نے قیامت کے دن کے احوال بیان فرمائے۔
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگلی پچھلی تمام امتوں کے لوگ جمع ہو کرشفاعت کے لئے سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ فرمائیں گے، کسی اور کے پاس جاؤ۔پھر لوگ یکے بعد دیگرے سیدنا ابراہیم ، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے۔ آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے، تم حضرت محمد کے پاس جاؤ۔پھر لوگ حضرت محمد مصطفی کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے،یا محمد! آپ اللّٰہ کے رسول ہیں اور سب سے آخری نبی ہیں،اپنے رب سے ہماری سفارش کیجیے پھر حبیبِ کبریاء شفاعت فرمائیں گے اور آپ کی شفاعت قبول ہوگی۔
اس حدیث مبارکہ سے دو باتیں بالکل واضح ہیں۔ ایک یہ کہ جب لوگ نبیِ کریم کے پاس آئیں گے تو آپ انہیں کسی اور نبی کی طرف نہیں بھیجیں گے کیونکہ آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہے، نہ ظلی نہ بروزی۔
دوسری بات یہ کہ تمام امتوں کے مسلمان بارگاہِ رسالت میں اس بات کا اقرار کریں گے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ گویا آپ کی شفاعت کا طلبگار وہی ہوگا جس کا شافع محشرا کے آخری نبی، وسیلۂ نجات اور مددگار ہونے پر ایمان ہے۔
آج لے اُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
15۔عَنْ جَابِرٍ اَنَّ النَّبِیَّ ا قَالَ اَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِیْنَ وَلاَ فَخْرَ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلاَ فَخْرَ وَاَنَا اَوَّلُ شَافِعٍ وَّمُشَفَّعٍ وَلاَ فَخْرَ۔
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا، ’’میں رسولوں کا قائد ہوں اور فخر نہیں کرتا، اور میں سب نبیوں میں آخری ہوں اور کچھ فخر نہیں ، اورمیں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اورسب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول ہوگی، اور کچھ فخر نہیں ‘‘۔
جیسے ’’اول شافع‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت فرمائیں گے لہٰذا آپ سے پہلے شفاعت کرنے والا کوئی نہیں ہوسکتا، اسی طرح ’’خاتم النبیین‘‘ کا بھی واضح مطلب یہ ہے کہ آپ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں لہٰذا آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں آسکتا خواہ ظلی ہو یا بروزی۔
16۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَآءِ بِسِتٍّ اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْمَغَانِمُ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ طُہُوْرًا وَّ مَسْجِدًا وَ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً وَّخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آقاومولیٰ نے فرمایا، ’’مجھے انبیاء کرام پرچھ چیزوں سے فضیلت دی گئی۔
1۔ مجھے جامع کلمات دیے گئے،
2۔ میرا رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی،
3۔ میرے لئے مالِ غنیمت کو حلال کردیا گیا،
4۔ میرے لئے ساری زمین پاک اور نماز کی جگہ بنا دی گئی،
5۔ مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا
6۔ اور مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی‘‘۔

