اس فرمانِ عالی شان میں آقا ومولیٰ نے اپنے چھ اوصاف ارشاد فرمائے ہیں اور آخری دو اوصاف میں ختم نبوت کا عقیدہ بیان فرمایا ہے۔اس مضمون کی آیات پہلے مذکور ہو چکیں کہ رحمتِ عالم قیامت تک کے تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے۔اس حدیث پاک میں بھی یہی بات ارشاد ہوئی ہے۔ اگر حضور کسی ایک علاقے کے لوگوں کی طرف مبعوث ہوتے تو پھر کسی اور علاقے کے لوگوں کے لئے نبی کا امکان ہوتامگر آپ قیامت تک ساری مخلوق کے نبی ہیں۔
پھر اس کی مزید وضاحت خود آقا کریم نے یوں فرمائی کہ
’’مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی‘‘۔لفظ{النَّبِیُّوْنَ}میں تمام انبیاء شامل ہیں خواہ تشریعی ہوں یا غیر تشریعی۔ اب کوئی نبوت کا دعویٰ کرے، خواہ ظلی کہے یا بروزی، وہ کذاب اور دجال ہے۔
17۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فَاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ وَاِنَّ مَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسُاجِد۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ سیدِ عالم نے فرمایا،’’بیشک میں آخرُالانبیاء (سب نبیوں میں آخری) ہوں اور میری مسجد آخرُالمساجد (کسی نبی کی بنائی ہوئی آخری مسجد)ہے‘‘۔
قادیانی اس حدیث سے بھی مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضور نے مسجد نبوی کو آخرُالمساجد فرمایا مگر اس کے بعد بیشمار مساجد بنیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خاتم اور آخر دونوں کا معنی افضل ہے، آخری نہیں۔
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت عباس نے مکہ سے بارگاہِ نبوی میں پیغام بھیجا کہ اگر اجازت ہوتو میں ہجرت کر کے مدینہ آجاؤں؟ اس پر آقا کریم نے فرمایا،چچا جان! ابھی وہیں رہیے،
{فَاِنَّکَ خَاتَمُ الْمُہَاجِرِیْنَ فِی الْہِجْرَۃِ کَمَا اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ فِی النُّبُوَّۃِ}
’’ آپ ہجرت میں آخری مہاجر ہو جیسے میں نبوت میں سب سے آخری نبی ہوں‘‘۔
اس ہجرت سے مراد مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ آکر نبی کریم کے ساتھ رہنا ہے۔ چنانچہ سب سے آخر میں ہجرت کرنے والے صحابی حضرت عباس ہیں۔
جیسا کہ مواہب الدنیہ اور مدارج النبوت میں مذکور ہے۔ اس حدیث پاک سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خاتم کامعنی افضل نہیں بلکہ آخری ہے۔ اوپر مذکور حدیث میں بھی آخر ُ الانبیاء اور آخر ُ المساجد کے معانی جو قوسین میں تحریر ہیں وہ بالکل واضح اور قرآن وحدیث کے مطابق ہیں۔ حضور کے بعدجب کوئی نبی نہیں ہے تو لامحالہ آپ کی بنائی ہوئی مسجد کسی نبی کی بنائی ہوئی آخری مسجد ہے۔
مزید تسلی کے لئے یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں جس سے اس معنی کی مزید تائید ہوتی ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا،
{اَنَا خَاتِمُ الْاَنْبِیَآءِ وَمَسْجِدِیْ خَاتِمُ مَسَاجِدِ الْاَنْبِیَاءِ}
’’میں سب نبیوں میں سے آخری ہوں اور میری مسجد تمام انبیاء کی مساجد میں سے آخری ہے‘‘۔
18۔عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاہِلِیّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ا وَاِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا اِلاَّ حَذَرَ اُمَّتَہُ الدَّجَّالَ وَاَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ وَاَنْتُمْ اٰخِرُ الْاُمَمِ فَیَقُوْلُ اَنَا نَبِیٌّ وَّلاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ
حضرت ابواُمامہ باہلی سے ایک طویل روایت میں ہے کہ رسولِ معظم نے ہمیں خطبہ دیا جس میں دجال سے متعلق گفتگو فرمائی اس میں فرمایا، ’’بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہ بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال کے فتنے سے نہ ڈرایا ہو۔ اور میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو دجال پہلے یہ دعویٰ کرے گا،’’میں نبی ہوں‘‘، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔

