Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 31 of 115

غیب بتانے والے آقا کریم کا ایک اور ارشاد ہے،’’

تخلیقِ آدم سے لے کر قیامت آنے تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے‘‘۔

احادیث میں آیا ہے کہ دجال کئی شعبدے دکھا کر لوگوں کو گمراہ کرے گا۔ اُس کے حکم سے بارش ہوگی، سبزہ اُگے گا، وہ مردے زندہ کرے گا اورزمین سے خزانے نکالے گا۔

اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے تمام انبیاء اپنی امتوں کو دجال کے فتنے سے ڈراتے رہے۔

ہمارے آقا ومولیٰ نے یہ بھی فرما یا ،

دجال پہلے یہی دعویٰ کرے گا کہ’’میں نبی ہوں‘‘، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔گویا رسولِ معظم نے اپنی امت کو یہ درس دیا کہ کوئی شخص کتنے ہی شعبدے اور کرشمے دکھائے، اگر وہ نبی ہونے کا دعویٰ کرے تو یقین کرلینا کہ وہ کذاب اور دجال ہے۔

بڑے کانے دجال کے علاوہ تیس چھوٹے دجالوں کا ذکر اوپر حدیث میں موجود ہے۔ قادیانی مرزا کذاب کے جھوٹے ’’معجزات‘‘ زوروشور سے بیان کرتے ہیں اور مرزا دجال نے اپنی پیشین گوئیاں پوری ہونے کے بہت دعوے کئے مگر رب تعالیٰ نے اس کی ہر پیش گوئی کے خلاف کر کے اُس کا کذاب ودجال ہونا ثابت فرمایا۔

ہم اس پربعد میں کلام کریں گے کہ اس کی ایک بھی پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔ فی الحال ہمارا مدعیٰ یہ ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے کذاب، دجال اور مردودہے۔

19۔عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا یَقُوْلُ:یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّہٗ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلاَ اُمَّۃَ بَعْدِکُمْ .... .... والخ

حضرت ابواُمامہ باہلی سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ نے فرمایا، اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہے۔ خبردار! اپنے رب کی عبادت کرتے رہو،پانچوں نمازیں پڑھو،رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکوٰۃ دو، اور اپنے اماموں کی اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

حدیث شریف کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ حضور نے فرمادیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور تمہارے بعد کوئی اور امت نہیں ہے۔ تمہیں ایک جامع دین دیا جا چکا ۔ تم ارکانِ اسلام کی پابندی کرو گے تو جنت میں چلے جاؤ گے۔

20۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ا فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی {وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَھُمْ} قَالَ کُنْتُ اَوَّلَ النَّبِیِّیْنَ فِی الْخَلْقِ وَاٰخِرَہُمْ فِی الْبَعْثِ۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آیت{وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَھُمْ (اور جب ہم نے انبیاء سے اُن کا وعدہ لیا…)} کے متعلق رحمتِ عالَم  نے فرمایا،’’میں سب نبیوں سے پہلے تخلیق کیا گیا اور اُن سب کے بعد بھیجا گیا‘‘۔

اس حدیث کو امام ابونعیم نے دلائل النبوۃ باب ماجاء فی فضل رسول اللّٰہ میں روایت کیا اور امام سیوطی رحمہما اللہ نے اسے جامع صغیر میں روایت کر کے صحیح قرار دیا۔

حضور اکرم نورِ مجسم کے نورِ نبوت کی تخلیق سے متعلق اختصار کے ساتھ صرف دو احادیث کا مفہوم سپردِ قلم کر رہا ہوں۔ امام بخاری و امام مسلم کے استاذُ الاستاذ، امام عبدالرزاق رحمہم اللہ نے اپنی کتاب المصنف میں صحیح سند سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم  نے حضرت جابرص سے فرمایا،

’’اے جابر!بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور (کے فیض) سے پیدا فرمایا‘‘۔یہ حضور کے نور کی تخلیق ہے۔پھر نورِمصطفیٰ یا روحِ مصطفیٰ کو منصب نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صحابہ نے عرض کی، یارسول اللّٰہ! آپ کے لئے نبوت کب ثابت ہوئی؟ آپ نے فرمایا،{وَاٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ}’’اُس وقت جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up