معلوم ہوا کہ آقا ومولیٰ،آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل مقامِ نبوت پرفائز کئے جا چکے تھے۔یہ حدیث بھی مذکور ہو چکی کہ اللّٰہ تعالیٰ کے پاس آپ کاخاتم النبیین ہونا لکھا جاچکاتھا۔ رب تعالیٰ نے سب نبیوں کو آپ کے آخری نبی ہونے سے مطلع بھی فرمایا۔
حضرت عمر سے روایت ہے کہ جب آدم علیہ السلام سے بھول ہوگئی تو انہوں نے دعا کی، الٰہی !مجھے حضرت محمد کے وسیلے سے بخش دے۔ رب تعالیٰ نے فرمایا،اے آدم ! تو نے محمد کو کیسے پہچانا؟ عرض کی، مولا! جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے عرشِ الٰہی پر لکھا ہوا دیکھا،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ میں نے جان لیا کہ جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے وہ یقیناً تیرا محبوب ہے۔
ارشاد ہوا،’’ اے آدم!تو نے سچ کہا، وہ مجھے تمام مخلوق سے محبوب ہے۔ {وَلَوْ لاَ مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُکَ وَہُوَ اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ} اگر محمد نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا، اور وہ تمہاری اولاد میں سے آخری نبی ہیں‘‘۔
ثابت ہو ا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی کے وقت سے ہی رحمتِ عالم کے خاتم الانبیاء ہونے کا اعلان فرمادیا اور بعد والے نبی بھی یہ اعلان فرماتے رہے، حتیٰ کہ شبِ معراج میں تمام انبیاء کرام کے مجمع میں حضور نے خطبہ دیا تو فرمایا،
’’تمام تعریفیں اللّٰہ کے لئے جس نے مجھے رحمۃ للعالمین بناکر بھیجا اور سب لوگوں کے لئے بشیر و نذیر بنایا، اور مجھے (بابِ شفاعت)کھولنے والا اور (بابِ نبوت) بند کرنے والا بنایا‘‘۔
آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا،
’’ انہی فضائل کی بناء پر محمد کو تم سب پر فضیلت دی گئی‘‘۔
گویا شب معراج میں بھی عقیدہ ختم نبوت بیان کیا گیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ شبِ معراج میں تمام انبیاء کرام نے امام الانبیاء کی اقتداء میں نماز ادا فرمائی۔گویا جو جو نبی تھے وہ سب مسجدِ اقصیٰ میں موجود تھے۔اب قادیانی بتائیں کہ مرزا کذاب جو کہ نبوت کا دعویدار تھا، کیا وہ مسجد اقصیٰ میں تھا؟ یقیناً نہیں کیونکہ وہ تو پیدا ہی نہیں ہوا تھا
۔یہ آسان سا مسئلہ ہر مسلمان کی سمجھ میں آتا ہے کہ جو شبِ معراج، مسجدِ اقصیٰ میں نہیں تھا، وہ نبی ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللّٰہ تعالیٰ ہر گمراہ اور بدمذہب کو ہدایت عطا فرمائے، آمین۔
21۔کَانَ عَلِیٌّ اِذَا وَصَفَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا قَالَ بَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّۃِ وَہُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔
’’حضرت علی آقا ومولیٰ کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتے، حضور کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی اور آپ آخری نبی ہیں‘‘۔
اس حدیث مبارکہ سے سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا عقیدہ بھی واضح ہورہاہے کہ وہ حضور کو آخری نبی مانتے ہیں اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم کے اوصاف ذکر کرنا اور خاص طور پر ختم نبوت کا عقیدہ بیان کرنا صحابہ کرام کا طریقہ رہا ہے۔
حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء کو بھیجا، ان کے دائیں ہاتھ میں نبوت کی علامت رکھی، سوائے ہمارے آقا ومولیٰ کے کہ آپ کی مہرنبوت آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان پُشت پر تھی۔
جب نبی کریم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا،
’’میرے کندھوں کے درمیان وہ نشانی ہے جو مجھ سے پہلے تمام انبیاء کو بھی عطا ہوئی، کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول‘‘۔
معلوم ہوا کہ ہر نبی کے دائیں ہاتھ میں نبوت کی نشانی ہوا کرتی تھی اورہمارے آقا و مولیٰ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت اس لئے رکھی گئی کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔اب مرزائی بتائیں کہ مرزا کذاب کے دائیں ہاتھ میں نبوت کی کون سی علامت تھی؟
قادیانی اس سوال کا جواب قیامت تک نہیں دے سکتے۔

