22۔حضرت اسماعیل رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللّٰہ بن ابی اوفیٰ سے پوچھا، کیا آپ نے نبی کریم کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں!
{مَاتَ صَغِیْرًا وَّلَوْ قُضِیَ اَنْ یَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ا نَبِیٌّ عَاشَ ابْنُہٗ وَلٰکِنْ لاَّ نَبِیَّ بَعْدَہٗ}
’’وہ بچپن ہی میں وصال پا گئے۔اگر مقدر ہوتا کہ حضور کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نبی کریم کے بعد کسی نبی کا آنا ممکن ہوتا تو آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم نبی بنائے جاتے کیونکہ ان میں انبیاء کرام جیسے فضائل و اوصاف تھے ۔
لیکن چونکہ حضور خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتاتھا اس لئے آپ کے صاحبزادے بھی بچپن ہی میں وصال فرما گئے۔ یہ حدیث مبارکہ بھی عقیدہ ختم ِ نبوت کی روشن ترجمان ہے۔
اگر اس حدیث مبارکہ سے یہ مفہوم اخذ کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے نورِ نظر کو بچپن میں اس لئے وفات دے دی تاکہ حضور کے بعد کوئی انہیں نبی نہ سمجھ بیٹھے۔ پس جب حبیبِ کبریاء کا سگا بیٹا نبی نہیں ہوسکتا توانگریز ایجنٹ مرزا قادیانی کس طرح نبی ہو سکتا ہے؟ رب تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے، آمین۔
23۔حضرت عبداللّٰہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسولِ معظم ہمارے پاس یوں تشریف لائے جیسے کہ ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہوں۔ آپ نے فرمایا،
{ اَنَا مُحَمَّدُ نِ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ ثَلاَثاً وَلاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ}
’’میں محمد ہوں ، اُمّی نبی۔
یہ بات تین بار فرمائی۔ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔
معلوم ہوا کہ نبی کریم نے اپنے وصال سے قبل خاص طور پر ختم نبوت کے عقیدے کی تاکید فرمائی۔
نیز یہ بھی فرمایا کہ میں{ اُمِّی} ہوں یعنی میں نے دنیا میں کسی سے نہیں پڑھا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ نبی اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے افضل ہوتا ہے اسی لئے اس کا دنیا میں کوئی استاد نہیں ہوتا۔
24۔ حضرت زید بن حارثہ سے مروی ایک طویل روایت میں ہے کہ جب ان کے قبیلے والے انہیں لینے کے لئے نبی کریم کی بارگاہ میں آئے اور کہنے لگے، آپ یہ لڑکا ہمارے سپرد کر دیں اور اس کے عوض آپ جو چاہیں، ہم وہ معاوضہ پیش کئے دیتے ہیں۔تو آقا ومولیٰ نے فرمایا، {اَسْئَلُکُمْ اَنْ تَشْہَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنِّیْ خَاتَمُ اَنْبِیَائِہٖ وَرُسُلِہٖ}
میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم یہ گواہی دو کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اُس کے تمام نبیوں اور رسولوں میں سے آخری نبی اور رسول ہوں۔
اگر تم یہ گواہی دے دو تو میں اسے بغیر کسی معاوضے کے تمہارے ساتھ بھیج دیتا ہوں۔ اس حدیث پاک سے بھی معلوم ہوا کہ خاتم الانبیاء کے نزدیک عقیدۂ توحید کے ساتھ آپ کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ بے حد اہمیت کا حامل ہے۔
25۔ حضرت عمر فاروق سے مروی ایک طویل حدیث میں ہے کہ قبیلہ بنی سلیم کا ایک اعرابی گوہ شکار کر کے لایا اور بارگاہِ رسالت میں آکر کہنے لگا، لات وعزّٰی کی قسم! میں آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا جب تک یہ گوہ ایمان نہ لائے۔ سرکارِ دوعالم نے اس گوہ کو پکارا تو اس نے فصیح وبلیغ عربی میں جواب دیا جسے سب حاضرین نے سنا اور سمجھا۔گوہ نے عرض کی، {لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ یَا رَسُوْلَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ’’میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اے دونوں جہانوں کے رب کے رسول‘‘۔

