حضور نے فرمایا،{مَنْ تَعْبُدُ} ’’تیرا معبود کون ہے؟‘‘۔اس نے عرض کی، {اَلَّذِیْ فِی السَّمَاءِ عَرْشُہٗ وَفِی الْاَرْضِ سُلْطَانُہٗ وَفِی الْبَحْرِ سَبِیْلُہٗ وَفِی الْجَنَّۃِ رَحْمَتُہٗ وَفِی النَّارِ عَذَابُہٗ} ’’وہ جس کا عرش آسمان میں ہے، اور سلطنت زمین میں ہے، اورقبضہ سمندر میں۔ اور جنت میں جس کی رحمت ہے اور جہنم میں جس کا عذاب ہے‘‘۔
پھر آقا کریم نے دریافت کیا،{فَمَنْ اَنَا یَا ضَبُّ } ’’اے گوہ! میں کون ہوں؟ ‘‘گوہ نے جواب میں عرض کی، {اَنْتَ رَسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَخَاتِمُ النَّبِیِّیْنَ ، قَدْ اَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَکَ وَقَدْ خَابَ مَنْ کَذَّبَکَ}’’آپ دونوں جہانوں کے رب کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں سے آخری جس نے آپ کی تصدیق کی وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے جھٹلایا وہ نامراد ہوا‘‘۔
یہ سن کر اعرابی بول اُٹھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک آپ اللّٰہ کے سچے رسول ہیں۔
معلوم ہوا کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور تک جانتے ہیں کہ رسولِ معظم سب سے آخری نبی ہیں ۔تو جو نبی کریم کے آخری نبی ہونے کا منکر ہے وہ جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے۔
ایک اور ایمان افروز روایت ملاحظہ فرمائیے۔
26۔حضرت معاذبن جبل فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو ایک درازگوش (گدھے) نے نبی کریم سے گفتگو کی۔ اُس نے عرض کی، یارسول اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ نے میرے اجداد میں ساٹھ ایسے درازگوش پیدا فرمائے جن میں سے کسی پر بھی سوائے نبی کے کوئی سوار نہ ہوا۔{وَقَدْ کُنْتُ اَتَوَقَّعُکَ اَنْ تَرْکِبَنِیْ لِاَنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ نَسْلِ جَدِّیْ غَیْرِیْ وَلاَ مِنَ الْاَنْبِیَاءِ غَیْرُکَ}
’’مجھے توقع تھی کہ آپ مجھ پر سوار ہوں گے کیونکہ میری نسل میں میرے سوا کوئی باقی نہیں رہا اور انبیاء کرام میں آپ کے سوا کوئی اورنبی باقی نہیں‘‘۔ آقا کریم انے اُس دراز گوش کانام ’’یعفور‘‘ رکھا۔جب آپ کسی صحابی کو بلانا چاہتے تو یعفور کو بھیجتے۔ وہ اُن صحابی کا دروازہ کھٹکھٹاتا اور اشارے سے بتاتا کہ آپ کو سرکار بلارہے ہیں۔ جب حضور کا وصال ہوگیا تو اس دراز گوش نے آقا کی جدائی کے صدمہ میں ایک کنوئیں میں چھلانگ لگا کر جان دیدی۔
27۔حضور کا ارشاد ہے ،ہم قیامت کے دن ستر امتوں کی تکمیل کریں گے اور ہم سب سے آخری اورسب سے بہتر ہونگے۔
28۔ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ عرش کے پایوں پر {محمد رسول اللّٰہ خاتم الانبیاء} تحریر ہے۔
29۔حضرت عبداللّٰہ بن ثابتص سے مروی طویل روایت میں ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا، {اِنَّکُمْ حَظِّیْ مِنَ الْاُمَمِ وَاَنَا حَظُّکُمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ}
’’بیشک تمام امتوں میں سے میرا حصہ تم لوگ ہو اور تمام انبیاء میں سے تمہارا حصہ میں ہی ہوں‘‘۔
اس حدیث شریف سے بھی واضح ہے کہ اس امت کے لئے صرف ایک ہی نبی ہیں اور وہ خاتم الانبیاء ہیں، اُن کے سوا اس امت میں نہ کوئی ظلی نبی ہے نہ بروزی۔
30۔حضرت تمیم داری سے روایت ہے کہ قبر میں میت سوال کے جواب میں کہتی ہے، ’’اسلام میرا دین ہے اور حضرت محمدمیرے نبی ہیں اور وہ خاتم النبیین ہیں‘‘۔ تو فرشتے اُسے کہتے ہیں، تو نے سچ کہا۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبر میں نجات پانے کے لئے بھی ضروری ہے کہ ختمِ نبوت کے عقیدے پر ایمان رکھا جائے۔ الحمد للّٰہ! ان احادیثِ مبارکہ سے نبی کریم کا آخری نبی ہونا روزِ روشن کی طرح ثابت ہوگیا۔

