باب سوم ختمِ نبوت پر اہلِ کتاب کی گواہی:
متعدد روایات سے ثابت ہے کہ سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام نے امام الانبیاء کے آخری نبی ہونے کی گواہی دی نیز آسمانی کتابوں میں بھی نبی کریم کا خاتم النبیین ہونا مذکور تھا۔
اس پر چند روایات ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ نے فرمایا، ’’اگلی کتابوں میں میرے یہ نام مذکور تھے، احمد، محمد، ماحی، مقفی…الخ‘‘۔ ماحی کے معنی ہیں، کفر وشرک مٹانے والے۔ اور مقفی کے معنی ہیں، سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے۔ گویا رحمتِ عالم کا خاتم الانبیاء ہونا سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی مذکور تھا۔
2۔حضرت جابرص سے روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان قلمِ قدرت سے لکھا ہوا تھا، محمد رسول اللہ خاتم النبیین۔
3۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا، جب آدم علیہ السلام جنت سے سرزمینِ ہند میں اترے تو انہیں وحشت ہوئی۔ اس پر جبریل علیہ السلام نے اذان دی۔ جب انہوں نے اذان میں حضور کا اسمِ گرامی سنا تو پوچھا، محمد کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، یہ آپ کی اولاد میں سب سے آخری نبی ہیں۔
4۔حضرت کعب احبار سے روایت ہے کہ سب سے پہلے جو بابِ جنت کی زنجیر پر ہاتھ رکھے گا اور جس کے لئے دروازہ کھولا جائے گا، وہ حضرت محمد ہیں۔ پھر آپ نے توریت کی آیت پڑھی، مرتبے میں سب سے پہلے، زمانے میں سب سے آخری ، یعنی امتِ محمد۔
5۔حضرت عامر شعبی سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں ارشاد ہوا، بیشک تیری اولاد میں قبائل در قبائل ہونگے یہاں تک کہ نبی امّی خاتم الانبیاء جلوہ فرما ہونگے۔
6۔حضرت محمد بن کعب سے روایت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ میں تیری اولاد سے سلاطین وانبیاء بھیجتا رہوں گا یہاں تک کہ اس حرم والے نبی کو بھیجوں گا جس کی امت بیت المقدس کو بلند تعمیر کرے گی، اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور اس کا نام احمد ہے۔
7۔طلحہ بن عبداللّٰہ کہتے ہیں کہ میں بصریٰ کے بازار میں تھا کہ میں نے ایک راہب کو یہ کہتے سنا ، کیا ان لوگوں میں کوئی اہلِ حرم میں سے ہے؟ میں نے کہا، میں ہوں۔ اس نے کہا، کیا احمد ظاہر ہوگئے ؟ میں نے پوچھا، احمد کون ہیں؟ راہب نے کہا، یہ احمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں۔ یہ ان کا مہینہ ہے جس میں وہ اعلانِ نبوت فرمائیں گے اور وہ آخری نبی ہیں۔ وہ حرم (مکہ) سے ہجرت فرمائیں گے ایسی زمین کی طرف جو کھجوروں والی، سنگلاخ اور بنجر ہوگی، پس تم کسی معاملے میں ان سے آگے نہ بڑھنا۔
8۔حضرت کعب احبار سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا، میرے والد توریت کے بہت بڑے عالم تھے۔ان کے برابر توریت کا کسی کو علم نہ تھا۔وہ اپنے علم سے کوئی چیز مجھ سے نہ چھپاتے۔ وہ جب مرنے لگے تو مجھے بلا کر کہا، بیٹا! میں نے تجھ سے کوئی علم نہ چھپایا مگر ہاں، دو ورق رکھے ہیں۔ ان میں ایک نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب ہے۔ وہ اوراق اس طاق میں رکھ کر اوپر سے مٹی لگادی ہے۔ ان کی وفات کے بعد میں نے طاق کھول کر وہ اوراق نکالے تو ان میں یہ لکھا پایا، {مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لاَ نَبِیَّ بَعْدَہٗ مَوْلِدُہٗ بِمَکَّۃَ وَمُہَاجِرُہٗ بِطَیْبَۃِ} ’’محمدا اللّٰہ کے رسول ہیں، سب نبیوں میں آخری ہیں، اُن کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ان کی پیدائش مکے میں ہوگی اور ہجرت طیبہ کو‘‘۔

